کلمہ طیبہ،اسکی اھمیت وعظیمت اور اسکی طرف دعوت

مولانا محمد جاوید اشرف مدنی

 

اسلام وہ دین ہے جو اللہ تبارک وتعالی نے اپنے تمام بندوں کے لئے منتخب کیا ہے،اور اس کی تعلیم وقتا فوقتا حضرات انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ نازل فرماتے رہے ،یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر آخری نبی خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا ہوا،اور اسلام کی تعلیم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوگئی اور اس کا اعلان بھی قرآن کریم میں فرمادیا گیا : الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا ،اورتم پر تمہاری نعمت پوری کردی ، اور تمارے لئے اسلام دین کو پسند کیا ۔
اس دین کا از اول تا آخر ایک ہی کلمہ رہا ہے : لا الہ الا اللہ ۔ البتہ کلمہ کے دوسرے جزء،انبیاء علیہم السلام کے مطابق بدلتے رہے ،آخری نبی کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ ہے ،یہی کلمہ اس دین کی بنیاد اور اساس ہے،اسی پر آخرت میں نجات کا دارومدار ہے ،جو اس کلمہ کومان کر آئے گا اس کوروز قیا مت نجات وکامیابی ملے گی ،اور جو اس کلمہ کے بغیر آئے گا وہ سراسر خسارہ ونقصان بلکہ ہمیشہ کے عذاب وتکلیف میں رہے گا،اسی کلمہ کی دعوت کو انسانوں تک پہنچانے کے لئے ہرزمان ومکان میں نبیوں نے محنتیں کیں ، اس کے پہنچانے کی راہ میں ان مقدس وپاکیزہ ہستیوں نے نہایت مشقت وتکالیف برداشت کیں ،آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف کا ذکرسیرت واحادیث کی کتابوں میں ذرا تفصیلی ملتا ہے ،دیگر انبیاء علیہم السلام کا ذکر بھی قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں کچھ نہ کچھ ملتا ہے ،اس کی روشنی میں معلوم ہوا کہ کائنات میں سب سے عظیم کام یہی کلمہ کی دعوت ہے ،جس کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے مقدس ترین ہستیوں کو بھیجا ، اور ان کو اس کلمہ کی راہ میں تکالیف بھی برداشت کروائیں،یہ بھی قدرت الٰہی میں طے ہوا ، اس سے اس کلمہ کی عظمت واہمیت کا کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے،اس کلمہ کی دعوت کے کام کو امت نے جب تک بخوبی نبھایا دنیا کی ساری فتوحات اور دنیا کی ساری ترقیاں ان کے پیروں تلے آگئیں،دنیاکی حکومتوں کو ،دنیاکے خزانوں کو اللہ تبارک وتعالی نے اس کلمہ کی دعوت کی برکت سے اس امت کے قدموں میں ڈال دیا،اور جیسے جیسے اس کلمہ کی دعوت کے عظیم ترین کام کو اس امت نے فراموش کردیا اور اس میں غفلت برتی گئی، ویسے ہی اللہ تبارک وتعالی نے اپنی خیرات وبرکات کواس امت پر تنگ فرمادیا ، اس بات کے لئے کسی دلیل وحجت کی ضرورت نہیں،تاریخ و سیرت کے ادنی طالب علم پر یہ حقیقت سورج کی روشنی کی طرح واضح ہے ،اس سے بھی آگے بڑھ کر جب امت نے اس کلمہ کی دعوت کو دین کا کام سمجھنا ہی چھوڑدیا تو مزید اللہ تعالی کی طرف سے پکڑ ومواخذہ تک کی نوبت بھی آپہنچی،اور آج امت مسلمہ کا جو حال ہے اس سے کون واقف نہیں کہ ذلت اور رسوائی ہی نہیں بلکہ جینا بھی مشکل ہورہا ہے،دشمنان اسلام اس امت کو جیتے رہنا بھی دیکھنا نہیں چاہتے ،یقیناًان حالات کے ذمہ دار امت مسلمہ کے افراد ہیں جو ان بھٹکے ہوئے کروڑوں کیا اربوں انسانوں تک اللہ کاپیغام پہنچاتے ،دین رحمت سے ان کو روشناس کراتے تو ان کی دشمنیاں کافورہوجاتیں ، اور قوموں کی قومیں، ملکوں کے ملک دین رحمت کی چھایا میں سکون کاسانس لیتے ،مگر ان تک حق کا پیغام اور آخری کلمہ نہ پہنچانے کی پاداش میں قومیں نہ صرف یہ کہ محروم رہیں بلکہ وہ دشمنی وعداوت کی حدود پارکرنے لگیں،اور اب حالات مزید