دعوت د ین - ایک اہم فریضہ

اللہ تعالیٰ نے اس امت کو امت دعوت بناکر بھیجا اوراس کا خاص وصف یہ قرار دیا کہ وہ انسانیت کو سیدھے راستہ کی طرف بلائے، چنانچہ ارشاد ہوا: ”کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر“ تم بہترین امت ہوجو لوگوں کے لیے برپا کی گئی ہو، تم بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو۔ نیز فرمایا: ”وَکذلک جعلناکم امة وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا“ اور اسی طرح ہم نے تم کو درمیانی ومعیاری امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ (اور ان پر نظر رکھنے والے) ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہوں۔

چنانچہ یہ ایک معتدل اور معیاری اور لوگوں کی گواہ اور ان پرنظر رکھنے والی امت ہے، دیگر انسانی گروہوں پر نظر رکھنے اور ان کی غلط کاریوں کی نشاندہی کرنے والی امت ہے۔ جب اس کو یہ منصب دیا گیا ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ اس منصب کا حق ادا کرے۔

دعوت اسلامی کے تناظر میں اگر ہم ہندوستان کا جائزہ لیں تو یہاں دعوت کے امکانات دوسرے خطوں کے مقابلہ میں زیادہ ہیں۔ اس کی چند وجوہ ہیں:

الف: ہندوستان کی مٹی میں حددرجہ جذبہ احسان مندی پایا جاتاہے۔ خصوصاً ہمارے برادرانِ وطن ہندوقوم کے اندر یہ جذبہٴ احسان مندی اس درجہ موجود ہے کہ یہ قوم اپنے محسن اور بہی خواہ کے سامنے ماتھا ٹھیک کر جذبہٴ منت شناسی کے غلو میں اس کی پوجا کرنے لگتی ہے۔

ب:   اسی ملک کی مٹی میں مذہب سے والہانہ تعلق اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اور مذہب پر قربان ہونے کا جذبہ حد درجہ اس ملک کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ انسان مذہب کے تئیں قربانی خدا کی خوشنودی کے لیے دیتا ہے۔ اگراس قوم کے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ شرک اور بت پرستی کا یہ راستہ جس کے لیے آپ قربانی دے رہے ہیں، غلط بلکہ اللہ تعالیٰ کوانتہا درجہ ناراض کرنے والاہے، اللہ کو راضی کرنے کی راہ صرف اسلام ہے، تو یہ قوم اسلام کے لیے کہیں زیادہ قربانی دینے کو تیار ہوجاتی ہے۔