رفیق بنو فریق نہیں

ملک کے موجودہ حالات کے پس منظر میں حضرت داعی اسلام 
کی یہ تحریر قند مکرر اور یاددہانی کے طور پر پیش کی جارہی ہے

ملت کو در پیش مسائل میں ایک بڑا سانحہ یہ ہے کہ دین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں میں ربط اور جذبہ تعاون ناپید سا ہوگیا ہے ، بلکہ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک ہی شعبہ میں اور ایک ہی نظم سے وابستہ افراد میں بھی حد درجہ رقابتیں ہیں ، زندگی کا اکثر حصہ دوسروں کو نیچا دکھاکر اپنے لئے میدان صاف کرنے مین خرچ ہوجاتا ہے اور کفر ایمان اور حق وباطل کی جگہ ایک نئی لڑائی ہاتھ کی شروع ہوگئی ہے ، ہر آدمی خیال یہ ہے کہ جو کام میرے ہاتھ سے ہورہا ہے ، یا جسے میں کررہاہوں وہ تو کام ہے اور وہی حق ہے ، اور جو کوئی دوسرا کررہا ہے وہ کچھ نہیں ، حال یہ ہے کہ اپنے کام کی اہمیت اور دوسرے کے کام کے استخفاف کا جذبہ ہے ، دوسرے شعبوں اور تنظیموں کے ساتھ مل کرکام کرنے والوں کے لئے کلمہ خیر کہنے اور ان کی خدمات کے اعتراف کا حوصلہ مفقود ہوگیا ہے ، جس کی وجہ سے رب کریم کی دی ہوئی قیمتی صلاحیتیں اور وسائل تخریبی اور منفی کاموں میں ضائع ہورہے ہیں ، اس لئے ضرورت ہے کہ ملت کے درد مند افراد اور خدام دین اس اہم مرض کے ازالہ کے لئے کوشش کریں اور جس خوش نصیب کو اللہ نے دین کے کسی بھی حصہ کی خدمت کی توفیق بخشی ہے وہ اپنی ذات کے ذریعہ اس مرض کے ازالہ کی فکر کرے ۔
امریکہ میں دعوت دین اور اسلام کے لئے بہت سے افراد اور تنظیمیں کوشش کررہی ہیں ، وہاں کے اصحاب درد نے مرشدی حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی دامت برکاتہم کے سفر امریکہ کے موقع پر دینی کام کرنے والوں کے درمیان باہمی ربط اور جذبہ تعاون کی کمی کی وجہ فکرمند ہوکر اس مرض کے علاج کے لئے حضرت مولانا سے خطاب کی درخواست کی ، اس موقع پر حضرت مولانا ؒ نے جو خطاب فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے ۔
’’دوچیزوں کو جوڑنے کے لئے ایک ذریعہ اور جوڑنے والے مادہ کی ضرورت ہوتی ہے ، کاغذکوجوڑنے کے لئے الگ لوشن استعمال کیا جاتا ہے ، لکڑی کو جوڑنے کیلئے الگ لوشن استعمال کیا جاتاہے ، اسی طرح دلوں کو جوڑنے والا ایک گوند ہے وہ ہے اخلاص اور تعلق مع اللہ ، دلوں کو صرف تعلق مع اللہ اور اخلاص کی بنیاد پر جوڑا جاسکتا ہے ،،
ایک طبیب حاذق کی اس تجویز سے یہ بھی تشخیص ہوتی ہے کہ دین کے مختلف شعبوں کا کام کرنے والوں میں رقابت اور رسہ کشی کی وجہ اخلاص کی کمی یا اخلاص کا نہ ہونا ہے ، اور اخلاص کی علامت اور پہچانے جاننے کے لئے حضرت سید احمد شہید کا یہ ملفوظ مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ، ارشاد فرمایا:
دین کا مسلمہ اصول ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں ، اور اخلاص کی ترازو یہ ہے کہ اگر دین کے ہر کام کرنے والے کی احسان مندی دل میں ہے تو دل میں اخلاص ہے ورنہ نہیں ، کام کرنے والوں سے اگر یہ رقابت ہے کہ اس کا ادارہ کیوں چل رہا ہے ؟ وہ کیوں کام کررہا ہے ؟ دوسروں کے ذریعہ ہونے کام کچھ نہیں ، جو میں کررہا ہوں بس وہ کام ہے ، اگر یہ جذبہ ہے تب اسے چاہئے کہ یا تو اپنی نیت کی اصلاح کرے ، ورنہ کام بند کردے ، اخلاص یہ ہے کہ ہر آدمی دین کے ہر کام کو اپنا ذاتی کام سمجھے ، آپ کا اپنا گھر بن رہا ہو اور کوئی آدمی آکر اس میں کام کرنے لگے ، سیمنٹ ملانے لگے ، اینٹیں پکڑوانے لگے ، تو آپ اس کے کتنے احسان مند ہوں گے ؟ کہ میرا کام تھا میر ی ذمہ داری تھی اور یہ میرا ہاتھ بٹارہا ہے ۔
علامہ شوکانی ؒ نے بھی یہ اصول ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی جگہ یا کسی میدان میں دین کا کام کررہا ہو ، اگر اس جگہ کوئی اس سے اچھا کام کرنے والا شخص آجائے تو اخلاص کی علامت یہ ہے کہ اس کا احسان مند ہوکر نئے آنے والے کو کام کا موقع دے ، اور خود دوسری جگہ کام شروع کردے اور اس کام کرنے والے کا پورا تعاون کرتا رہے ۔
غرض دینی تنظیموں اور کارکنان میں ربط وتعاون کے لئے اخلاص اور تعلق مع اللہ ہی بنیاد بن سکتا ہے ، اخلاص دل کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس کا ہر ایک انسان مکلف ہے ، اخلاص پیدا کرنے اور اسے باقی رکھنے کا شریعت نے بھی حکم دیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص پیدا کرنا اور باقی رکھنا اختیاری ہے ، کبھی آدمی کام کے شروع میں بہت مخلص ہوتا ہے اور اخلاص کم ہوتے ہوتے ختم ہوجاتا ہے ، کبھی اس کا برعکس بھی ہوتا ہے ، آدمی ابتداء میں غیر مخلص ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ اخلاص نصیب ہوجاتا ہے 
اخلاص پیدا کرنے اور اس کو باقی رکھنے کے لئے ایک بہت ہی مجرب نسخہ پیش خدمت ہے کہ:
آدمی دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرے ، اور پیچھے لگنے کا مزاج بنائے ، ہر آدمی کو اپنے سے جوڑنے کی کوشش نہ کرے ،اور آج دین کا ہر خادم اور ہر دینی تنظیم کے افراد یہ کوشش کرتے ہیں کہ سب لوگ ہمارے ساتھ جڑیں ، اور ہمارے پیچھے لگیں ، حضرت تھانوی ؒ کے بقول : ہر آدمی مقتدابننا چاہتا ہے تو مقتدی کہاں سے آئیں گے،،
اس لئے اپنے کو مقتدی بنائیں ، مقتدا بننے سے گریز کریں ،جو خادم دین سب کو اپنا مقتدا بنانے اور سب کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے ، اول تو اس کے دل میں اخلاص ہوتا ہی نہیں اور اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو رفتہ رفتہ رخصت ہوجاتا ہے ، اس کے برخلاف مقتدی بن کر دوسروں کے ساتھ جڑ کر کام کرنے والوں میں شروع ہی سے اخلاص ہوتا ہے او ر بڑھتا رہتا ہے ، اور اگر بالفرض شروع سے اخلاص نہ بھی ہو تو رفتہ رفتہ اخلاص پیدا ہوجاتا ہے ، ہرخادم دین کو دوسروں کے ساتھ جڑ کر کام کرنے اور پیچھے لگ کر کام کروانے کا حوصلہ کرنا چاہیئے ۔
یہ بات اگرچہ نفس پر شاق ہے مگر اس میں بڑی عافیت اور برکت ہے ۔
دوسروں کے ساتھ جڑ کر کام کرنے والا آدمی دین کے ہر خادم کا رفیق بنے گا اس کا فریق نہیں بنے گا ، اور اپنے ساتھ ہر ایک کو جوڑنے والا ہر دوسرے شخص کو اپنا رقیب سمجھے گا ،اس سلسلہ میں حضرت تھانوی ؒ کا یہ ملفوظ بھی مشعل راہ بنالینے کے لائق ہے کہ ’’ دین کے ہر کام کرنے والے کے رفیق بنو ، فریق نہ بنو،، 
یہ بات کتنی افسوس ناک ہے کہ جو لوگ اپنے ذاتی مشاغل اور روزگار میں لگے تھے ، باہمی مودت اور محبت کے جذبہ کے ساتھ ایک دوسرے کا تعاون کرتے تھے ، وہی لوگ جب دین کے کام میں لگ گئے تو رقابتیں پیدا ہوگئیں .....وہ دین جو انھیں جوڑنے آیا ہے اور جس نے قرآن کریم کی زبان میں یہ اعلان کیاتھا : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا ، وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَآءً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ ، فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَکُمْ مِنْہَا. (آل عمران ۱۰۳)
اور اللہ کی رسی کومضبوط پکڑلو اور جدا جدا مت ہوجاؤ ، اور اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جب تم دشمن تھے تو تمہارے دلوں کوجوڑ دیا اور تم اس نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے ، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تھے تو اس نے تم کو اس سے بچالیا ۔
اسی دین کے کام میں لگ جانے والوں میں عدم اخلاص کی بنا پر رقابتیں پیدا ہوگئیں ۔
بعض دفعہ ایک مخلص آدمی بھی ایک غلطی کا شکا ہوجاتا ہے دین کے کسی خاص شعبہ میں کسی خاص نہج پر ، کسی تنظیم یا جماعت سے جڑ کر یا کسی بڑے کی عقیدت اور محبت میں کوئی آدمی دین کا کام انجام دے رہاہو تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ بھی دین کے اس شعبہ میں اسی تنظیم کے زیر سایہ ، ان کے شیخ وپیشوا کی سر پرستی میں کام کریں ، یہ جذبہ انسان کا فطری جذبہ لیکن اگر اس میں یہ خواہش شامل ہوجائے کہ دوسرے لوگ اپنے کام سے الگ ہوجائیں یا ان کے کام کا رد ہونے لگے تو یہ صحیح نہیں ، اور یہ بات ممکن بھی نہیں ہے ، اس لئے اگر آپ یہ خواہش کرنے لگیں کہ آپ اپنے والد کو اپنا والد سمجھتے ہیں تو سار ے لوگ بھی اپنے والد کو چھوڑ کر انھیں اپنا والد سمجھنے لگیں ، یا آپ جس کو اپنا ماموں کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہر آدمی اسے اپنا ماموں کہنے یا سمجھنے لگے تو یہ خیال کیسا غلط ہوگا ؟
یہ بات تو ممکن ہے کہ آپ دین کے ہر شعبہ اورنہج میں کسی خادم دین کا تعاون کرتے ہوئے اپنے کاموں میں اس کی معاونت کے خواستگار ہوں لیکن اس کو اس تنظیم اور کام سے ہٹاکر اپنے ساتھ جوڑنا کسی طرح مناسب نہیں ، اس لئے بھی کہ وہ شخص جس کام میں لگا ہوا ہے بڑی کوششوں اور مجاہدوں کے بعد ، اپنے ذاتی مسائل اور مشاغل کے ہجوم میں اس نے ایک ترتیب قائم کی ہے ، اگر آپ نے اس کو اس کے کام سے ہٹا دیا تو شاید شیطان اور نفس بھی اس کام سے ہٹنے میں اس کا تعاون کریں لیکن اس کے بعد اس کے لئے یہ ضروری تو نہیں کہ اس کے حالات آپ کے خاص حالات اور نہج سے میل کھائیں ، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جس نہج پر کام کررہا ہوتا ہے جب اسے چھوڑ دیتا ہے تو دوسرے کام کے ساتھ اس کا تال میل نہیں ہوپاتا ، اس صورت میں نہ وہ اِدھر کا رہتا ہے نہ اُدھر کا ،
اس لئے اگر کوئی خادم دین کسی خاص ترتیب وتنظیم سے لگا ہوا ہے تو اسے اس سے جدا کرنا کسی طرح بھی مفید نہیں ، اس کو اس کی ترتیب کے ساتھ جڑا رکھ کر آپ اپنے لئے تعاون کی امید کرسکتے ہیں ، بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی تحریک اور تنظیم کے تعاون کیلئے ایسے افراد تلاش کریں جو دینی خدمت کے کسی خاص شعبہ سے وابستہ نہیں ہیں ، اس طرح ایسے افراد کو دینی کام سے لگادینا بھی خود ایک بڑی خدمت ہوگی۔
ہر انسان کے اندر کچھ خوبیاں ہوتی ہیں اور کچھ خامیاں بھی ، گناہوں اور کوتاہیوں سے معصوم تو صرف نبی ہوتا ہے اس لئے کیا ضروری ہے کہ دینی کام کرنے والوں کی کوتاہیاں اور کمزوریاں ہی ہماری مجلس کا موضوع بنی رہیں ؟
دینی کام کرنے والوں کے درمیان باہمی رقابت کے جذبہ کی وجہ سے ہماری مجلس میں غیبت کا ہونا ضروری سا ہونے لگا ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ دینی کام کرنے والا ہر خادم ، دین کے ہر کام کرنے والے کی خدمات کا اعتراف وسعت قلب ، اور جذبہ احسان مندی کے ساتھ اپنی ذات سے شروع کرے ، اور پھر اپنے تما رفقاء کو سب کے لئے کلمہ خیر کہنے کا عادی بنائے ، اور کلمہ شر ادا کرنے سے منع کرتا رہے ، اس کے نتیجہ میں باہمی رفاقت کا جذبہ پیدا ہوگا اور ملت کے قابل قدر افراد کی ٹیم کی صلاحیتیں مثبت اور تعمیر ی کاموں میں استعمال ہوسکیں گی ، اور یہ مومن نبی آخر الزماں ﷺ کے اس فرمان کی کسوٹی پر اپنے کو حقیقی مومن ثابت کرسکے گا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: المومن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا (بخاری شریف :باب نصر المظلوم). ایک مومن دوسرے مومن کیلئے دیوار کی اینٹوں کی طرح ہے کہ ایک اینٹ سے دوسری کوتقویت پہنچتی ہے ۔