دعوتی نقطہ نظر سے مریض اور طبیب کا تعلق 

داعی اسلام حضرت  محمد مولانا کلیم صدیقی صاحب

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو دنیا میں رحمت بناکر مبعوث فرمایا۔ وہ رحمت اللعالمین نبی تھے۔اللہ نے رحمت کی ہوائیں چلانے کے لئے اس دنیا میں ختم نبوت کا فیصلہ کیا تھا۔اس کو میدانِ جنگ نہیں بنایاتھا۔ہم نے میدان کارزاربنالیا ہے ۔وہ ہم کو دشمن سمجھتے ہیں اورہم اُن کو دشمن سمجھتے ہیں۔طبیب اپنے مریض سے بد ظن اور مریض اپنے طبیب سے بد ظن،مریض تو اپنے طبیب کوکیاکہہ رہاہے کہ یہ تو جاہل ہیں، یہ گندے ہیں ،یہ دہشت گرد ہیں ،یہ بنیاد پرست ہیں،اور ہم کیا کہہ رہے ہیں یہ سازشی ہیں ،یہ دشمن ہیں، یہ کافر ہیں، یہ مشرک ہیں یہ کہتے ہیں ہم برائی کے ساتھ۔کیسی حقارت اور بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مریض اپنے طبیب سے بد ظن ہو جائے توکوئی حیرت کی بات نہیں کہ مریض کی رائے بھی مریض ہوتی ہے۔مریض شدت درد میں طبیب کو کاٹ بھی لیتا ہے ،سیرین توڑ کے پھینک دیتاہے ،لیڈ نکال کے پھینک دیتاہے،اُلٹی کردیتا ہے،کردیتا ہے نا! لوز موشن ہو تو ہسپتال کی سب چیز کو سڑادیتا ہے ،مریض پاگل ہو تو پتھربھی برساتا ہے گالی بھی دیتا ہے،اور مریض کا علاج نہ کرے وہ طبیب ،اور مریض مراجارہاہو،تو مریض اورمریض کے گھر والوں کا غصہ، احتجاج،جلن،دشمنی سب برحق ہے کہ نہیں؟ لیکن طبیب کی اپنے مریض سے نگاہ پھرجائے توپھرہسپتال نہیں چلے گا،یہ دنیا کا المیہ ہے یہ! یہ نہیں کہ وہ احتجاج کررہے ہیں یا وہ مخالف ہو گئے ہیں،اصل خطرہ کی گھنٹی کی بات یہ ہے کہ ہم طبیب ہو کر ان کودشمن اور حریف سمجھنے لگیں۔
ہمارا منصب تھا علاج،احتجاج نہیں تھا،ہم دیکھتے ہیں زیادہ سے زیادہ بیماری تو احتجاج پر اُتر آتے ہیں،مخالفت پر اُتر آتے ہیں۔دوں بدوں کرنے لگتے ہیں،نکالو اس مریض کو،گندھا کیوں آیا،اس نے سیرین توڑی ہے تو اس کاہاتھ کا ٹ دو۔کوئی طبیب اگر کہے کہ درد کی شدت میں اس نے سیرین توڑ دی ہے تواس کا ہاتھ کاٹ دو تو آپ اسے کیا کہیں گے طبیب!دیکھئے اگر مرض نہیں ہورہا ہے صحیح تواس کا مطلب یہ ہے کہ طبیب نے اپنا حق ادا نہیں کیا،لاعلاج جوکہتے ہیں نالاعلاج۔یہ فن طب کے اُصول کے حساب سے کوئی چیز نہیں ہے یہ،طب کی ڈکشنری میں یہ بہت ہی مکروہ لفظ ہے کہ لاعلاج کہہ دینا،اور شرعی اعتبار سے بھی اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایاکہ کوئی مرض ایسا نہیں ہے جس کی اللہ تعالیٰ دوا پیدا نہ کی ہو،اب اگردوانہیں اوراُس مرض کاعلاج نہیں ہوا ہے تواس کامطلب یہ ہے کہ طبیب نے کوشش نہیں کی ہے اپنی بساط بھر دوا تلاش کرنے کی دوادینے کی ،تجربہ کرنے کی ،ورنہ تو ظاہر ہے آخری سانس تک علاج ہے۔اب اگر یہ مریض مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں تو طبیب ہی کی غلطی ہے ۔اگر ہم نے کوشش کی ہوتی تو اور کی جاتی ہے تو یہ مریض طبیب بننے کو تیاررہتے ہیں