ملت کے موجودہ مسائل کا حل

 

داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب

امت مسلمہ کی زبوں حالی پر بے حس سے بے حس مسلمان بھی مضطرب اوربے چین ہے کشمیر وافغانستان سے لے کر فلسطین تک اور خود ہمارے ملک کے حالات سے،ہندوستان کی ملت اسلامیہ کرب میں ڈوبی ہوئی محسوس ہو تی ہے اور کسی بھی طرح اس مسلسل شکست اورمغلوبیت ومظلومیت اور گویا درد لادوا کے علاج کی تلاش کے سلسلہ میں حیران وپریشان ہے اورحقیقت یہ ہے کہ ملت کے ان تمام مسائل کاعلاج اگر مل سکتا ہے تواس طبیب حاذق کی اس عظیم بیاض میں ہی مل سکتا ہے (جس کو قرآن کریم کہاجاتا ہے ) جس کے بارے میں قران کریم کااعلان ہے :
’’فیہ شفاء لما فی الصدور‘‘
اُس میں شفاء ہے اس کیلئے جو کچھ سینوں میں ہے۔
بیماروشکستہ دلوں کا علاج اگر ہے توقرآن حکیم میں ہے اور ہرموڑ پر رہنمائی اورمؤمنین کے لئے رحمت ہے تواس فرمان الٰہی میں،قرآن حکیم طبیب حقیقی کافرما ن ہے اور طبیب حاذق مرض کی اصل جڑ کاعلاج بتاتا ہے ،وہ مرض کی علامت اور عرض کونہیں دیکھتا 
ایک کسی مرض کا عرض ہو تا ہے جس کو مرض کی علامت بھی کہتے ہیں،اور دوسرے اس مرض کی اصل وجہ ہوتی ہے، مثال کے طورپر کسی انسان کو بخار آتا ہے ،بخار میں بدن میں درد اورگرمی محسوس ہو تی ہے زبان پرخشکی محسوس ہوتی ہے اب ایک عامی آدمی سے معلوم کیا جائے کہ بدن میں درد گرمی اور زبان پرخشکی کیوں ہو رہی ہے توجواب ہوگا کہ بخار آرہا ہے اس کی تشخیص کے مطابق وقتی طورپر بخار کو کم کرنے اور درد کوتسکین دینے والی دوا دے دی جائے توآرام ہوجائے گا لیکن دوا ختم ہونے کے بعد پھر بخار آئے گا اور بار بار آتارہے گا ۔
اس کے برخلاف اگرکسی طبیب حاذق سے رجوع کیا جائے گا تووہ مرض کی اصل کی طرف توجہ کرے گا وہ علاماتِ بخار اور خون کی جانچ وغیرہ کے ذریعہ معلوم کرکے بتائے گاکہ مریض کے جسم او ر خون میں بخار کے جراثیم پیداہوگئے ہیں اور وہ جراثیم فلاں قسم کے ہیں،وہ اس مرض کے علاج کے لئے جراثیم کش دواؤں کا استعمال کرنے کا مشورہ دے گا اور وقتی طورپر درد اور بخار کے لئے مسکن دواؤں کودوسرے درجہ پررکھے گا۔
قوموں،ملکوں اورافرادپرآنے والے انفرادی اجتماعی حالات مصائب اورپریشانیوں کے سلسلہ میں خالق کائنات (جوطبیب حقیقی بھی ہیں اور علیم وخبیر بھی)نے امراض کی اصل کی وضاحت فرما کر امراض کوجڑسے ختم کرنے کی رہنمائی فرمائی ہے، قرآن حکیم میں ارشا د ہے:
وما اصا بکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر وما انتم بمعجزین فی الارض،وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر (الشوریٰ:۲۹)
تم کو جومصیبت آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں سے کئے ہوئے کی وجہ سے آتی ہے جب کہ بہت سے گناہ وہ معاف فرمادیتا ہے اور تم زمین میں کہیں بھی (بھاگ کر)اس کو بے بس نہیں کر سکو گے اور اللہ کے علاوہ تمہارا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار 
قرآن حکیم کافیصلہ یہ ہے کہ بحر وبر میں جوفساد برپا ہورہا ہے جو مصائب اورآلام انفرادی یااجتماعی طورپر نازل ہورہے ہیں وہ ہمارے ہاتھوں کی کمائی اور ہماری شامت اعمال کا نتیجہ ہیں اور ان تمام مسائل کاحل اللہ کے علاوہ کسی اور دروازہ سے نہیں ہوسکتا ہے اگروہ مسائل یامظالم حاکم وقت یا بادشاہ وقت کی طرف سے بھی ہوں توبھی نبوی ارشاد ہے کہ اعمالکم عمّا لکم (تمہارے اعمال کانتیجہ تمہارے حکمراں ہیں)حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے لکھا ہے کہ اس سال کے حالات گذشتہ سال کے مسلمانوں کے اعمال کی بدلی ہوئی شکل ہے گویا زمین پر جوبھی اچھے برے حالاتہوتے ہیں وہ صرف مسلمانو ں کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں،غیر مسلم چونکہ اللہ کی کائنات کے باغی اور غدار ہیں اس لئے ان کے گناہوں کی سزا کے لئے توآخرت ہے ہاں اگروہ کچھ بھلائی کرتے ہیں تواس کا انعام ان کو دنیامیں مل جاتاہے ،کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہیں ہے ۔
قرآن وحدیث کی اس تشخیص وتجویز کے ساتھ کسی بھی موقع پرحالات کاعلاج انسان کے لئے آسان بھی ہے اور اپنے اختیار میں بھی ہے۔ اگرانسان زمین و آسمان میں رونما ہونے والے واقعات وحادثات کو اپنے کردارو عمل اور اپنے باطن بلکہ اپنے دل کے رموٹ کنٹرول سے جوڑنے کامزا ج بنالے تو اس کے لئے نہ صرف حالات کاعلاج آسان ہوجائے گا بلکہ یہ مزاج اس کو اپنے مالک، قادر مطلق، محبوب رب سے قریب سے قریب تر کرتا چلا جائے گا ،ایما ن خوف اور امید کے درمیان ہے، فرما ن رسالت ہے۔
الایمان بین الخوف وا لرجاء