دعوت دین اور فکر آخرت

داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب

 

اس میں اللہ کے نبیﷺ کے خطاب سے مراد وہ ہے جو شارحین حدیث علماء نے لکھا ہے کہ جو کسی کافر اور مشرک کو ایمان میں لے آتا ہے اُس سے اللہ اتنے ہی زیادہ خوش ہوتے ہیں، وہ حدیث یہ ہے: 
اﷲ اشدفرحا بتوبۃ عبدہ حین یتوب الیہ،مِن احدکم کان علیٰ راحلتہ بارض فلاۃ، فانفلتت منہ، وعلیہا طعامہ وشرابہ،فأیس منہا، فأتیٰ شجرۃ فاضطجع بظلّہا قد أیس من راحلتہ، فبینا ہوکذلک اذ ہوبہاقائمۃ عندہ،فأخذ بخطامہا ثم قال من شدۃ الفرح:اللہم انت عبدی واناربک،أخطأ من شدۃ الفرح۔ (مسلم:۲۷۴۷)
اللہ تعالی ٰ اپنے بندہ کے توبہ کرنے سے اس سے زیادہ خوش ہوتاہے،جتنا وہ آدمی جس کی اونٹی کسی ویران جنگل میں اچانک کھوجائے،اسی پر اس کا کھانے پینے کا سامان تھا،وہ اس سے مایوس ہوکر ایک درخت کے نیچے آیا اور مایوسی کے عالم میں لیٹ گیا،اچانک اس نے دیکھاکہ اونٹنی اس کے پاس کھڑی ہوئی ہے، اس نے اونٹنی کی لگام پکڑلی اور خوشی کے جوش میں پکار اٹھا:اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب] خوشی کی شدت میں اس سے غلط الفاظ نکل گئے[
کسی کا بچہ باغی ہو جائے،اور کوئی آدمی اُسے سمجھا بجھا کر باپ کے قدموں میں لاکرڈال دے،تو لانے والے کے ساتھ باپ کا کیا حال ہوگا!آپ اندازہ کیجئے۔ اسی طرح اللہ اس بندے سے خوش ہوتے ہیں،جوبندے کوغیر اللہ سے ہٹا کر اللہ سے جوڑ دیتا ہے ، اصل کسی کافر مشرک کو ایمان میں لانا اور دعوت دے کر اُسے کلمہ پڑھواناہے۔ لیکن اگر کوئی بے نمازی کو، اور بے دین کو دین دار بنادے تو ضمناً اس فضیلت میں وہ بھی شامل ہے۔اتنے فضائل ہیں دعوت کے۔ اور یہ فرض ہے اور فرض بھی ایسا ہے کہ اُ س کے کرنے کے فضائل ہیں،اور نہ کرنے پر وعیدیں ہیں،بہت مشہور حدیث ہے:کہ تم لوگ امر بالمعروف نھی عن المنکرکرتے رہو نہیں تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت سوار کرے گاجس کو پوری دنیا مل کر ہٹانا چاہے تو ہٹا نہیں سکتی۔آپﷺ نے فرمایا کہ امر بالمعروف نھی عن المنکرکرتے رہو نہیں تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسے ظالم حاکم مسلط کرے گا،جو تمہارے بڑوں پر رحم نہیں کریں گے،اور تمہارے علماء کااحترام نہیں کریں گے،اور تمہارے برگزیدہ بندے دعا کریں گے تودعائیں قبول نہیں ہوگی،یہ بھی ہوگا ! اوربھی بہت سی وعیدیں ہیں لیکن جو کل میں نے عرض کیا تھا کہ صلح حدیبیہ کے بعد اللہ کے رسولﷺ جب تشریف لائے مدینہ منورہ، اورصلح حدیبیہ نفسیاتی اعتبار سے مسلمانوں کے لئے بڑا اہم واقعہ تھا، اس لئے کہ صحابہ بڑی تعداد میں تھے ، لیکن اس کے باوجود آپﷺ کوعمرہ نہیں کرنے دیاکفاران قریش نے،اور راستوں میں ہی مسلمانوں کو اپنی قربانی ذبح کر کے واپس لوٹنا پڑا،اور آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے صلح کرلی کفاران قریش سے ہر طرح سے دب کر۔ ساری اُن کی شرطیں مان لیں،اپنی کوئی شرط نہیں تھی،اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ تو بہت زیادہ تلملا گئے،اللہ کے نبیﷺ سے فرمانے لگے کہ کیا آپ حق پر نہیں ہیں۔ کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم جلدی مسجد حرام میں داخل ہوں گے،تو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے کہا تھا کہ اسی سال میں داخل ہوں گے۔واپس آئے تو بہت شکستگی تھی صحابہ میں، تومسجد نبوی میں آپؐ نے خطبہ دیا،آپ سمجھئے کہ اُس وقت جو خطبہ دیا ہے خاص موقع پر آپ ﷺ نے او رآپ نے کیا حکمت عملی بنائی ،یہ بھی سیرت سے سیکھنے کی ہے، تو آپ ﷺنے صحابہؓ سے خطاب فرمایا: لوگو!عیسیٰ کے حواریوں کی طرح مت ہو جانا،کہ اُنہوں نے وعدہ تو کیا لیکن نبھایا نہیں،اور جاؤ دنیا کے بادشاہوں اور رئیسو ں تک اسلام کا پیغام پہنچا دو۔اور آپ ؐ نے فرمایا کہ اے لوگو! میں پوری دنیائے انسانیت کے لئے اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ ہر گھر اور ہرانسان تک اس کلمہ کے پیغام