اسلام میں عورت  کا مقام

اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام عطا کیا ہے، عورت کی بطور ماں شان بلند کرتے ہوئے یہ واجب قرار دیا ہےکہ ماں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے طریقے سے پیش آنا ہے ، اس کی اطاعت کرنی ہے، بلکہ اس  کی رضا مندی کو اللہ تعالی کی رضا مندی قرار دیاہے، اسی طرح یہ بھی بتلایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، یعنی مطلب یہ ہے کہ جنت کا قریب ترین راستہ  ماں کی خدمت سے ملے گا، اس کی نافرمانی کو حرام قرار دیا، بلکہ محض اف کہنے کو بھی حرام قرار دیا، نیز والدہ کے حقوق والد کے حقوق سے بھی بڑے  قرار دئیے، ایسے ہی بڑھاپے اور کمزوری کی عمر میں والدہ کا خیال رکھنے پر زور دیا، اس بارے میں متعدد قرآن و سنت کی نصوص موجود ہیں۔

مثال کے طور پر:
( وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا )
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔[الأحقاف:15 ]

اسی طرح فرمایا: ( وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلا كَرِيمًا [23] وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ) 
ترجمہ: آپ کے  پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ : تم اس کے علاوہ  اور کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بہتر  سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو  انہیں اف تک نہ کہو، نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرو تو ادب سے کرو۔ [23] اور ان پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ : پروردگار ! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے (محبت و شفقت) سے پالا تھا۔ [الإسراء:23، 24]

اسی طرح سنن ابن ماجہ میں ہے کہ: معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت  کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں " تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟) میں نے کہا: " جی ہاں " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (واپس جاؤ اور ان  کی خدمت کرو)۔ اس پر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری جانب سے آیا  اور عرض کیا: "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت  کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں " تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟) میں نے کہا: "اللہ کے رسول ! جی ہاں زندہ ہے" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان کے پاس واپس جاؤ اور ان  کی خدمت کرو)۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور عرض کیا: "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں " تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟) میں نے کہا: "اللہ کے رسول! جی ہاں، زندہ ہے" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارا بھلا ہو! اپنی والدہ کے قدموں میں پڑے رہو وہیں پر جنت ہے)
اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ میں صحیح کہا ہے، یہی حدیث سنن نسائی میں (3104) بھی ہے، سنن نسائی کے الفاظ یہ ہیں: (اپنی والدہ کی خدمت شعار