صبر كا پهل ميٹها ہوتا ہے

 

صبر لغوی اعتبار سے نفس کو جزع فزع سے روک لينے کا نام ہے ، اور شريعت کی اصطلاح ميں نفس کو اطاعت کی پريشانيوں، آلام ومصائب، اور گناہ کے علاوہ ہر قسم کے ضررپرروک لينا ہے ۔ (امام راغبؒ لکھتے ہيں :

الصبرحبس النفس علی ما يقتضيہ العقل والشرع.

" شريعت اور عقل جس بات کی متقاضی ہے اس پر نفس کو روک لينا صبر ہے" ۔ لفظ صبر کا ذکر قرآن کريم ميں 99 جگہ پر آياہے اور اس کی طرف بے شمار خيروبھلائی اور درجات کی نسبت کی گئی ہے

صبر كى جامعيت:

صبرگوکہ تين حرفوں سے مل کربنا ہے اورہمارے ذہن ميں اس کا مفہوم بھی نہايت محدود ہوتا ہے تاہم صبر کا دائرہ نہايت وسيع ہے، لفظ صبر اپنے اندر بے پناہ معانی کو سموئے ہوا ہے بسا اوقات لفظ صبرکئی ايک معانی ميں استعمال ہوتا ہے ۔

  چنانچہ اگرحرام جنسی خواہشات پر صبرہوتواسے عفت کا نام ديا جاتا ہے،  اگر لڑائی کے ميدان ميں صبرہو تو اسے شجاعت کا نام ديا جاتا ہے،اگر سامان عيش وعشرت سے نفس کو لگام دے کرصبرکيا جائے تو اسے زہد کا نام ديا جاتا ہے، تھوڑے سے سامان دنيا پر نفس کو مطمئن کرليا جائے تواسے قناعت کا نام ديا جاتا ہے ۔ اگرغصے کو کنٹرول ميں کرليا جائے تو اسے بردباری کا نام ديا جاتا ہے، اگربدلہ لينے کی طاقت رکھتے ہوئے معاف کرديا جائے تواسے عفوودرگذر کا نام ديا جاتاہے۔ اگرہرجائز جگہ پر مال لٹايا جا رہا ہو تو اسے سخاوت کا نام ديا جاتا ہے ۔غرضيکہ عفت ، شجاعت، زہد، قناعت، بردباری، عفو درگذر،اور سخاوت سب ميں صبرکا معنی پايا جاتا ہے ۔

 صبر كے اقسام :

 شريعت اسلاميہ کی نظر ميں صبر يہ ہے کہ اللہ تعالی نے جن چيزوں کے کرنے کا حکم ديا ہے اور جن چيزوں سے روکا ہے دونوں کی تنفيذ ميں آنے والی پريشانيوں کو برداشت کيا جائے ،اسی کو اوامر اور نواہی کہا جاتا ہے ، يعنی احکامات کی انجام دہی ميں صبر اور منہيات سے رک جانے ميں صبر ، اسی طرح ديگر دنياوی آلام و مصائب پرصبرکرے اور نفس کو قابوميں رکھے ۔ اسی لئے علماء نے صبر کی تين قسميں بيان فرمائی ہے ٭اطاعت پر صبر٭معصيت پرصبر٭اور آلام ومصائب پر صبر

اطاعت پر صبر: کامطلب يہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو جن احکامات کا مکلف بنايا ہے ان کی ادائيگی پر صبرکرنا،آپ جانتے ہيں کہ اطاعت کی انجام دہی نفس پر شاق گذرتی ہے ،اور ايسا اس وجہ سے کہ انسان کو اس کے بدلے جنت کی پرکيف نعمتيں ملنے والی ہيں جو کوئی گری پڑی چيز نہيں بلکہ اس  کے لئے قدم قدم پررياضت کی ضرورت ہے تب ہی تو فرماياگيا: وحفت الجنة بالمکارہ کيوں کہ جنت کو طبيعت پر گراں گذرنے والی چيزوں سے ڈھانپ ديا گيا ہے ، مثلاً فجر کی بيداری ہی کو ليجئے کہ اس وقت بيدار ہونا طبيعت پر نہايت گراں گذرتا ہے ليکن جو بيدار ہوتا ہے، نرم ونازک بستر کوچھوڑتاہے،اور وضو کرکے نماز فجر ادا کرتاہے وہ دراصل عبادت پر صبر کر رہا ہے ۔ اسی طرح زکاة ، روزے اورحج وجہاد کا معاملہ ہے ،جس ميں جان ومال کی قربانی مطلوب ہوتی ہے يہاں بندے کو صبر کی ضرورت ہے ،

اورتين حالات ميں اطاعت پر صبرکرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اطاعت کی انجام دہی سے پہلے ،اطاعت کی انجام دہی کے درميان اور اطاعت کی انجام دہی کے بعد ، اطاعت کی انجام دہی سے پہلے صبر کی ضرورت ہے کہ ہمارا دل ريا ونمود سے خالی ہو اور اس ميں اخلاص وللہيت پائی جائے ، اطاعت کی انجام دہی کے بيچ صبر کی ضرورت ہے کہ اسے ارکان وواجبات اور سنن کی رعايت کرنے ہوئے ادا کيا جائے ۔ اور اطاعت کی انجام دہی کے بعد صبر کی ضرورت ہے کہ اسے پوشيدہ رکھا جائے اورنمود و نمائش کے چکرميں پھنس کر اسے دوسروں کے سامنے بيان کرتا نہ پھرے ۔

معصيت پر صبر: کا مطلب يہ ہے کہ اللہ تعالی نے جن چيزوں سے منع کيا ہے ان سے اپنے آپ کو روک لينے ميں صبرکرنا، يہ حقيقت ہے کہ منہيات کی طرف خواہشات کا ميلان ہوتا ہے ،انسانی طبيعت ميں ان کے ارتکاب کا داعيہ پيدا ہوتا ہے اور ايسا اس وجہ سے کہ جہنم کو شہوات سے گھيرديا گيا ہے،وحفت النار بالشہوات لہذا جب طبيعت ميں بُرائی کی تحريک پيدا ہو رہی ہو ايسے وقت ميں نفس کو لگام دينا اور خواہشات پرقابوپاليناہی صبر کا دامن تھامنا ہے۔

اور معصيت پر صبر اختيار کرنے ميں جو چيزيں معاون ثابت ہوتی ہيں ان ميں سرفہرست ہيں اللہ تعالی کی نگرانی کو ذہن ميں تازہ کرنا کہ وہ ہميں ديکھ رہاہے اور ہماری باتوں کو سن رہا ہے ،اسی طرح اللہ تعالی کی محبت کو دل ميں بيٹھانا،اس کی نعمتوں اور احسانات کو ذہن نشيں رکھنا،اس کے جلال و غضب کو ياد رکھنااور برے ساتھيوں سے کنارہ کشی اختيار کرنا يہ وہ اسباب ہيں جوايک بندے کے لئے ترک معصيت ميں معاون ثابت ہوتے ہيں ۔

مصائب پر صبر: صبر کی تيسری قسم آلام ومصائب پر صبر کا مطلب بالکل واضح ہے کہ دنيا ميں انسانوں کوجورنج وغم لاحق ہوتا ہے ،اُن پر جو مصيبتيں اور پريشانياں آتی ہيں انہيں انگيز کيا جائے‘ اور مصيبتيں مختلف طرح کی ہو سکتی ہيں فقروفاقہ، بيماری ، حادثے ،مال وجان کی تباہی،عزيزوقريب کی موت وغيرہ ان مصائب ميں انسان صبر کا دامن تھامے رکھے ۔

 صبر کے ان تينوں قسموں کی وصيت لقمان حکيم نے اپنے بيٹے کوکی تھی:

 يا بنی أقم الصلاة وامربالمعروف وانہ عن المنکرواصبرعلی ما أصابک إن ذلک من عزم الأمور (لقمان 17) 

"پيارے بيٹے ! تو نماز قائم رکھنا‘اچھے کاموں کی نصيحت کرتے رہنا‘برے کاموں سے منع کيا کرنا‘اورجومصيبت تم پرآجائے صبرکرنا يقين مان کہ يہ بڑی ہمت کے کام ميں سے ہے" ۔

اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ صبر کی ان تينوں قسموں اطاعت پر صبر ،معصيت پر صبر اور دنياوی آلام ومصائب پر صبر ميں افضل صبر کونسا ہے ؟ تو اس کا جواب يہ ہے کہ اوامر ونواہی پر صبر کرنا افضل ہے دنياوی مشکلات پر صبر کرنے سے کيوں کہ دنياوی مصائب پر صبر فاسق وفاجر اور مومن وکافر سب کر سکتا ہے جب کہ اوامر ونواہی کی تعميل پر صبر وہی بندہ مومن کر سکتا ہے جس کے اندرجنت کی طلب ہوگی اوراللہ تعالی کی نگرانی کا احساس ہوگا ۔

کيا آپ نے اس جماعت پر غور نہيں کيا جن کی بابت يہ بشارت آئی ہے کہ سات طرح کے لوگ بروز قيامت عرش الہی کے سايہ تلے ہوں گے جس دن اللہ تعالی کے سايہ کے علاوہ کوئی دوسرا سايہ نہ ہوگا ؟ اورايسا محض اس وجہ سے کہ وہ صبر وشکيب کا دامن تھامے رہے .... ظاہرہے کہ با اختيارحاکم کا تقسيم، اورفيصلے ميں عدل وانصاف کا دامن تھام کرصبرکرنا، نوجوان کا عبادت الہی اور اپنی خواہشات پرقابوپانے ميں صبرکرنا،ايک شخص کا مسجد ميں دل اٹکائے رکھنے ميں صبرکرنا،صدقہ کرنے والوں کا لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رکھ کر صدقہ کرنا،اور جسے بدکاری کی طرف دعوت دی گئی اس کا دعوت دينے والی کے حسن وجمال اور منصب کی پرواہ کيے بغيراس کی دعوت پر لات مار کرصبرکرنا،اور دو آپس ميں اللہ کی خاطر محبت کرنے والوں کا حب الہی ميں صبر کرنا، اور اللہ تعالی کی خشيت سے گرنے والے آنسووں کوچھپاکررکھنے ميں صبرکرنا دراصل صبر کی نہايت پُرمشقت اورگراں ترين قسم ہے۔ (ابن قيمؒ)

 صبر کے ثمرات:

صبرايسا خزانہ ہے کہ جس نے اسے پاليا اس نے ہر بھلائی کی پيشانی تھام لی،ايسا لشکرہے جو کبھی شکست نہيں کھاتا،ايسا چشمہ ہے جوحقيقی معنوں ميں پياس کو بجھاتا ہے ۔ ايسی تلوار ہے جس کا نشانہ کبھی خطا نہيں ہوتا ،ايسی سواری ہے جو کبھی ٹھوکر نہيں کھاتی ، اور ايسا مضبوط قلعہ ہے جس ميں حفاظت يقينی ہے۔ صبر اور کاميابی دونوں سگے بھائی ہيں ،صبر کے بعد مددآتی ہے اور تنگی کے بعد کشادگی آتی ہے ۔

صبر کے ثمرات و فوائد لازوال اوربے مثال ہيں ،صبر کرنے والوں کے دونوں ہاتھ  ميں لڈو ہے، دنيا ميں اس کا اچھا بدلہ ملتا ہے اور آخرت کی کاميابی

 نصيب ہوتی ہے ۔ تو ليجئے صبر کے کچھ  فوائد  سماعت  فرمائيے!

صبر کرنے والوں کو اللہ تعالی کی معيت نصيب ہوتی ہے: ( ان اللہ مع الصابرين) (البقرہ 153) اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

صبرکا اجروثواب انگنت ہے: انما يوفی الصابرون اجرھم بغير حساب ۔(الزمر10) صبر کرنے والوں کوان کا پورا پورا بے شمار اجر ديا جاتا ہے ۔

صبرمحبت الہی کے حصول کا سبب ہے : واللہ يحب الصابرين (آل عمران 126) اللہ تعالی صبر کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔

صبر دين کی امامت وپيشوائی کا سبب ہے : وجعلنا منھم ائمة يھدون بامرنا لما صبروا (السجدہ 26) اور ہم نے ان ميں سے ايسے پيشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدايت کرتے تھے چوں کہ ان لوگوں نے صبر کيا تھا۔

 صبر کاميابی کے حصول کا سبب ہے: يا أيهالذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون (آل عمران200 ) "اے ايمان والو! تم ثابت قدم رہو اور ايک دوسرے کو تھامے رکھواور جہاد کے لئے تيار رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو"۔

 صبر مدد اور توشہ ہے: واستعينوا بالصبر والصلاة کہ نماز اور صبر کے ذريعہ مدد طلب کرو ۔ جس کے اند ر صبروشکيب نہيں اُسے مدد نہيں ملتی ۔

اللہ تعالی نے صبر کرنے والوں کواکٹھے تين انعامات کی بشارت دی ہے جس کی بشارت دوسروں کو نہيں دی گئی ‘وبشر الصابرين الذين اذٓ اصابتھم مصيبة قالوا انا للہ وانا اليہ راجعون ، اولئک عليھم صلوات من ربھم ورحمة واولئک ھم المھتدون (البقرہ 157-155) اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے ديجئے جنہيں‘جب کبھی کوئی مصيبت آتی ہے تو کہہ ديا کرتے ہيں کہ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملکيت ہيں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہيں ، ان پر ان کے رب کی نوازشيں اور رحمتيں ہيں اور يہی لوگ ہدايت يافتہ ہيں ۔

کسی اللہ والے کو پيش آمدہ مصيبت ميں تسلی دی گئی توانہوں نے کہا :آخر ميں صبر کيوں نہ کروں جبکہ اللہ تعالی نے صبر کے بدلے ہم سے تين خصلتوں کا وعدہ کيا ہے جن ميں ہر خصلت دنيا ومافيہا سے بہتر ہے ۔ اور وہ تين ہيں اللہ تعالی کی نوازشيں، اس کی رحمتيں، اور اس کی ہدايت ۔

اللہ تعالی نے صبر کرنے والوں کے لئے دشمنوں پر مدد کی ضمانت لی ہے: بلی ان تصبروا وتتقوا ياتوکم من فورھم ھذا يمددکم ربکم بخمسة آلاف من الملائکة مسومين. (آل عمران 125) کيوں نہيں‘اگر تم صبر وپرہيزگاری کرواور يہ اسی وقت تمہارے پاس آجائيں تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا

جنت ميں فرشتے صبر کرنے والوں کو سلام کريں گے: سلام عليکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار (الرعد 26) جنت ميں ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئيں گے اور کہيں گے کہ تم پر سلامتی ہو اس صبر کے بدلے جو تم نے دنيا ميں کياتھا‘کيا ہی اچھا بدلہ ہے‘آخرت کا ۔

 مومن كى آزمائش ہوتى ہے :