اسلام دین رحمت ہے

’رحمت‘ ایک ایسا گرانمایہ وصف ہے جسے سن کر دل کو یک گو نہ سکون ملتا ہے، جو ہرانسان کومحبوب ہے اورجس کے لیے ہرمخلوق بے تاب رہتی ہے-اسلام دین فطرت ہے، اوراس کے احکام انسانی طبیعت سے بالکل ہم آہنگ ہیں، اس لیے اسلام کااس صفت سے متصف ہونا نہایت ناگزیر تھا، یہ دین توایک آفاقی اورعالم گیردین تھا جسے ساری انسانیت کی رہبری کرنی تھی، اگریہ دین ’دین رحمت‘ نہ ہوتا توپوری دنیامیں اس کافروغ پانا کیوں کرممکن تھا ؟

جی ہاں ! اسلام دین رحمت ہے، ساری مخلوق کے لیے رحمت ورأفت کاپیغام ہے، چاہے جنات ہوں، یا انسان،مسلم ہوں یا کافر،حیوانات ہوں یا نباتات غرضیکہ ہر ذی روح کے لیے رحمت بن کرآیا ہے، اور کیوں نہ آئے کہ یہ دین اس ذات کا اتارا ہوا ہے ،جس کی صفت ہی ”الرحمن “ اور”الرحیم“ہے، جو اپنے بندوں سے ایسی رحمت اورشفقت کا معاملہ کرتا ہے کہ ویسا معاملہ ایک ماں بھی اپنے شیرخواربچے سے نہیں کرپاتی ۔ یہ دین آخر دین رحمت کیوں نہ ہو کہ اس کے پیغمبر ساری مخلوق کے لیے رحمت بناکربھیجے گئے تھے ،جس کی گواہی خود اللہ تعالی نے دی :

 وما أرسلناک إلا رحمة للعالمین (سورہ الانبیاء107)

”(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ کوتمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجاہے “۔

جی ہاں! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت تھے ،آخراس شخص سے بڑھ کررحیم وشفیق کون ہوسکتا ہے ،جسے ایک دوسال نہیں بلکہ مسلسل اکیس سال تک اذیت پہنچائی گئی ہو،جس کے راستے میں کانٹے بیچھائے گئے ہوں ،جس کے سر پراونٹ کی اوجھڑیاں ڈالی گئی ہوں، جسے پاگل مجنون اوردیوانہ کہہ کرمطعون کیاگیاہو،جس کامعاشرتی بائیکاٹ کیاگیا ہو ،جس پر پتھروں کی بارش برسائی گئی ہو، جس کے ماننے والوں کوروح فرسا تکلیفیں دی گئی ہوں،جس کے قتل کی سازشیں کی گئی ہوں ، جسے گھرسے بے گھرکیا گیا ہو، جسے وطن عزیز کو خیرباد کہنے پربھی چین وسکون سے رہنے نہ دیا گیا ہو، اورلگاتار آٹھ سال تک انہیں مشق ستم بنایا گیا ہو،لیکن وہی انسان جب اکیس سال کے بعد اپنے دشمنوں پرغلبہ پاتا ہے،تو ہرایک کی عام معافی کا اعلان کردیتا ہے، کیا تاریخ عالم کوئی مثال پیش کرسکتی ہے کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں ہوں، جس نے پتھر کھاکر گلدستہ پیش کیا ہو ،جس نے خون کے پیاسوں کو جام حیات پلایا ہو ۔ اگر وہ مثال اورنمونہ مل سکتا ہے تورحمت عالم ،فخر موجودات اور تاجدار مدینہ کی ذات میں مل سکتاہے ۔
اسلام کی نظر میں رحمت كى اس قدر اہميت ہے کہ اس نے اس صفت سے متصف ہونے کی بارہا ترغیب دلائی ہے، اورباہمی ہمدردی اورمہربانی کرنے والوں کو بے پناہ بشارتوں سے نوزاہے، چنانچہ فرمان نبوی ہے :

إرحمو ا من فی الأرض یرحمکم من فی السماء (مستدرک حاکم )