بوڑھوں اور حیوانات کے ساتھ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا کریمانہ سلوک

  اُداس چہرہ، سفید ڈاڑھی، ہاتھ میں لاٹھی، کھال میں سِلْوٹ، چال میں سستی، بات میں لرزہ، یہ معاشرہ کا وہ کمزور طبقہ ہے، جسے ہم ”بوڑھا“ کہتے ہیں، انسانی زندگی کئی مراحل سے گزرتے ہوئے بڑھاپے کو پہونچتی ہے، بڑھاپا گویا اختتامِ زندگی کا پروانہ ہے، اختتامی مراحل ہنسی خوشی پورے ہوں تو اس سے دلی تسلی بھی ہوتی ہے، رہن سہن میں دشواری بھی نہیں؛ لیکن آج جو صورتحال سن رسیدہ افرا د کے ساتھ روا رکھی گئی ہے، اس سے عمر رسیدہ افراد کی پریشانی میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے؛ حالانکہ والد نے بچے کی پرورش اس امید پر کی تھی کہ وہ بڑھاپے میں سہارا بنے گا، بجائے اس کے کہ یہ لڑکا بوڑھے باپ کو سہارا دیتا، کمر کو بھی توڑ دیتا ہے۔ایک جانب معاشرہ کی یہ صورتحال ہے، دوسری جانب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھوں کے ساتھ کمزوروں کے ساتھ ضعیفوں کے ساتھ بہت ہی زیادہ حسنِ سلوک کا مظاہر کیا، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ عمر رسیدہ افراد کی قدر دانی کی تعلیم دی، وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعہ قدردانی کا ثبوت بھی مہیا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن رسیدہ افراد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عظمت وبڑائی کا تقاضہ یہ ہے کہ بوڑھے مسلمان کا اکرام کیا جائے (ابوداوٴد: ۴۸۴۳ باب فی تنزیل الناس منازلہم، حسن) ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے بال اسلام کی حالت میں سفید ہوئے ہوں، اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا (ترمذی: ۱۶۳۴ باب ماجاء فی فضل من شاب، صحیح) ان احادیث سے سن رسیدہ افراد کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، اول الذکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رسیدہ کو حاملِ قرآن وعادل بادشاہ پر بھی مقدم کیا ہے؛ حالانکہ ان دونوں کی اہمیت وعظمت اپنی جگہ پر مسلم ہے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھوں کی رعایت کرتے ہوئے، ان کی حمایت فرمائی، دوسری حدیث میں بڑھا پے کے اثرات کا اخروی فائدہ بیان کیا کہ جس پر بڑھاپا اسلام کی حالت میں آیا ہو تواس کے لیے اللہ اس بڑھاپے کی قدردانی کرتے ہوئے روزِ محشر نور مقدر فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھوں کا اکرام واحترام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: چھوٹا بڑے کو سلام کرے، (بخاری: ۶۲۳۴ باب تسلیم الصغیر علی الکبیر) بڑوں کے اکرام واحترام کی ایک شکل سلام بھی ہے،بڑوں کی عمر ان کی بزرگی کا لحاظ کرتے ہوئے چھوٹے ہی بڑوں کو سلام کیا کریں؛ تاکہ یہ سلام چھوٹوں کی جانب سے بڑوں کے اکرام کا جذبہ بھی ظاہر کرے، اور بڑوں کے لیے بھی دل بستگی کا سامان ہو، کئی مقامات پر بڑوں کو بچوں سے اسی بات کی شکایت ہوتی ہے کہ بچے انھیں سلام نہیں کرتے، فطری طور پر بڑے عزت کے طالب ہوتے ہیں، کیوں نہ ہم ان کے اس تقاضے کا لحاظ کرتے ہوئے سلام کے ذریعہ ان کے جی کو خوش کریں، مجالس میں کوئی مشروب آئے تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا لحاظ کیا اس کو اولاً بڑے نوش فرمائیں، بڑوں سے آغاز ہو، فرمایا: بڑوں سے آغاز کرو؛بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مسواک کرتے ہوئے دو میں سے بڑے کو پہلے مسواک عنایت فرمائی (ابوداوٴ: ۵۰ باب فی الرجل یستاک، صحیح) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑوں کی اہمیت اجا گر کرتے ہوئے فرمایا: اَلْبَرَکَةُ مَعَ أکَابِرِکُمْکہ برکت تو تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے، کون ہے جو برکت کا متلاشی نہ ہو؟ کون ہے جو برکت کا طلبگار نہ ہو؟ آج تو کئی ایک بے برکتی کے شاکی ہیں، ایسے میں بر کت کے حصول کا آسان طریقہٴ کار یہ ہے کہ بوڑھوں کو اپنے ساتھ رکھا جائے، ان کے اخراجات کی کفالت کی جائے، اس سے آمدنی میں برکت ہوگی، نیز ایک موقع پر فرمایا: بات چیت میں بھی بڑوں کو موقع دیا، کَبِّرِ الکِبَرَ، اس کی تشریح کرتے ہوئے یحییٰ نے فرمایا: بات چیت کا آغاز بڑے لوگوں سے ہو، (بخاری: ۶۱۴۲ باب اکرام الکبیر) ایک موقع پر بوڑھوں کے اکرام کے فضائل وفوائد ذکر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نوجوان نے کسی بوڑھے کا اکرام اس کی عمر کی بنیادپر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے بڑھاپے میں اکرام کرنے والا شخص مقرر فرمائیں گے(ترمذی: ۲۰۲۲ باب ما جاء فی اجلال الکبیر، ضعیف)کون ہے جو اپنے بڑھاپے کو ہنسی خوشی پورا نہیں کرنا چاہتا ؟ کون ہے جو بڑھاپے میں خدمت گزاروں سے کتراتا ہے؟ کون ہے جو بڑھاپے میں آرام وسکون نہیں چاہتا؟ ان سب کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آسان نسخہ عنایت فرمایا کہ اپنے بوڑھوں کا اکرام کرو تمہیں بڑھاپے میں خدمت گار مل جائیں گے، الغرض! مختلف مواقع پر مختلف انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوڑھوں کی اہمیت وعظمت کو واضح کیا، اور امت کو ان پر توجہ کی تعلیم دی، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کریمانہ اخلاق ہیں کہ امت کے ہر کمزور طبقہ پر بذاتِ خود بھی رحم وکرم کا معاملہ کیا، اور وں کو بھی رحم وکرم سے پیش آنے کی تلقین کی۔

بڑوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل

          ایک سن رسیدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے، آنے والے کے لیے لوگوں نے مجلس میں گنجائش نہ پیدا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورتحال کو دیکھ کر صحابہٴ کرام ث سے مخاطب ہو کر فرمایا: جو شخص چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں (ترمذی: ۱۹۱۹ باب ماجاء فی رحمة الصغیر) یعنی ایک مسلمان میں جو صفات ہونی چاہیے ان میں سے ایک بڑوں کا اکرام بھی ہے، اگر کوئی اس وصف سے متصف نہیں تو گویا وہ ایک اہم مسلمانی صفت سے محروم ہے، اگر کوئی اس اہم اسلامی صفت کا خواستگار ہے تو اسے بڑوں کے اکرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، فتحِمکہ کے بعد جو حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے انھیں میں ایک اہم واقعہ حضرت ابو بکر صدیق ص کے بوڑھے والد کا بھی پیش آیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ حق پر ست پر اسلام قبول کرنے کے لیے انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بڑھاپے کو دیکھتے ہوئے فرمایا: ان