اسلام کا اخلاقی انقلاب

 

معاشرتی و اجتماعی زندگی کے بنانے اور سنوارنے میں اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، بلکہ معاشرت کی پہلی اینٹ اخلاقِ حسنہ ہی ہیں۔ حسن اخلاق کے بغیر انسان نہ صرف یہ کہ انسان نہیں رہتا؛ بلکہ درندگی و بہیمیت پر اتر آتا ہے۔ انسانیت کا زیور حسنِ اخلاق ہے؛ لیکن چھٹی صدی عیسوی میں دنیا اخلاقی اعتبار سے کنگال اور دیوالیہ ہوچکی تھی۔ انسانیت و شرافت کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔ تہذیب و اخلاق کے ستون اپنی جگہ چھوڑ چکے تھے۔ تہذیب و تمدن کے گہواروں میں خود سری، بے راہ روی اور خلاقی پستی کا دور دورہ تھا۔ روم و ایران اخلاق باختگی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے تھے۔ شراب عربوں کی گھٹی میں پڑی تھی، جو جاہلی معاشرے میں بڑائی اور خوبی کی بات تھی۔ سودی لین دین، کمزوروں کا استحصال اور اس سلسلے میں بے رحمی و سخت گیری عام تھی۔ بے شرمی وبے حیائی، رہزنی و قزاقی معمولی بات تصور کی جاتی تھی۔ جنگ جوئی اور سفّاکی بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ بے جا انتقام اور تعصب کا شمار قومی خصوصیتوں میں ہوتا تھا۔ ایسے اخلاق سوز اور غیر انسانی ماحول میں اسلام نے جو عمدہ اخلاقی نظام پیش کیا وہ انسانی طبائع کے لیے اکسیر ثابت ہوا اور ان کی وجہ سے تہذیب و ثقافت سے بے بہرہ قوم عرب میں ایسے اخلاقی نمونے پیدا ہوئے جن کی نظیر انسانی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔

اسلام کا اخلاقی نظام

یوں تو ہر ملک و ملت اور عہد و زمانے میں معاشرہ و ماحول پر برا اثر ڈالنے والی عادات و اطوار کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا گیا ہے؛ بلکہ مذہب اور سماج میں اس کو جرم اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ چوری و ڈاکہ، قتل و خوں ریزی، غیبت و بد گوئی ، کینہ و حسد ، تکبر، حق تلفی وغیرہ افعال و عادات ہر مذہب وسماج میں مذموم ہیں؛ جب کہ وقار و سنجیدگی، خوش کلامی و نرمی، عدل و تواضع، امانت و دیانت وغیرہ ہر معاشرے میں اچھے اخلاق شمار کیے جاتے ہیں؛ لیکن اسلام کے اخلاقی نظام اور دیگر اخلاقی قدروں میں کئی اعتبار سے بہت فرق پایاجاتا ہے۔ اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں میں اچھے اور برے اخلاق کا معیار عقل سلیم، پاکیزہ شعور اور تجربہ ہے؛ جب کہ اسلام میں ان سب سے بڑھ کر ایک متعین اٹھاریٹی ہے اور وہ ہے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اٹھاریٹی۔ اچھا اخلاق وہی ہے جسے اللہ و رسول نے اچھا اخلاق قرار دیا ہو اور اسی طرح برے اخلاق وہ ہیں جسے اللہ و رسول برا کہیں۔ اسلام میں اچھے اور برے اخلاق کا مسئلہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، وہ کسی انسانی عقل یا تجربہ کا محتاج نہیں۔ اسلام نے کسی طرز عمل کو اچھا یا برا اس لیے نہیں کہا کہ اسے لوگ ایسا ہی کہتے اور سمجھتے چلے آئے ہیں؛ بلکہ خود اسے اپنے اصولوں کی بنیاد