ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک عملی نمونہ

 اسلام ، عالمی اورابدی مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیمات اور اس کاسرمدی پیغام دنیا کے ہر گوشے میں بسے ہوئے انسانی افراد اور معاشرے کے لیے یکساںطور پر قابل عمل ہے۔ اس عالمی اور آفاقی مذہب کے پیغمبر آخر الزماں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر مرحلہ اور ہر پہلو پوری امت مسلمہ کے لیے ایک کامل اسوہ اور مکمل نمونہ ہے جیسا کہ قرآن کریم کی شہادت ہے:  لَقَدْ کَانَ لَکُم فِیْ رَسُولِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (۲۱:۳۳) آپ کی گھریلو زندگی ہویا سماجی زندگی، مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی ، عبادات ہوں یا معاملات، سیاسیات ہوں یا اخلاقیات و مذہبیات، آپ کی زندگی کا عملی نمونہ ہر شعبۂ زندگی میں تمام انسانوں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔

          نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جو اس ملک میں اقلیت میں ہیں،ایک مکمل عملی نمونہ موجود ہے۔ ہمارے ملک میں اکثریت غیر مسلمین کی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمان یہاں کی آبادی کا تقریباً پندرہ فی صد ہیں۔ یہ ملک ہم مسلمانوں کا اپنا محبوب وطن ہے اور مسلمان اس سرزمین کے ایک اٹوٹ حصہ کے طور پر صدیوں سے آباد ہیں۔ ہمارے آباء و اجداد اسی خاک میں مدفون ہیں اور اس بر صغیر میں ہماری تہذیب و تمدن اور تاریخ و روایات کے کتنے ہی انمٹ نقوش اور لاثانی یادگاریں ثبت ہیں کہ اگر اس گراں قدر تہذیبی، ثقافتی و تاریخی ورثہ کو ہندوستانی تاریخ سے مٹادیا جائے تو یہاں کی تاریخ روکھی اور بے رنگ نظر آنے لگے گی۔

          حصولِ آزادی کے بعد بھی گو مسلمانوں کو اس ملک میں مسلسل گذشتہ ساٹھ برسوں سے معاشی و تعلیمی اور سیاسی و سماجی آزمائشوں کا سامنا ہے؛ لیکن ملک کے مجموعی حالات مسلمانوں کے لیے اگر ہمت افزا نہیں تو کم از کم مایوس کن اور دل شکن بھی نہیں۔ یوں تواسلام کی ساری تعلیمات پر کاربند ہونا مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری اور اسلامی تقاضا ہے۔ تاہم مسلمانوں کے لیے ملک