محمد ﷺ کون ہیں؟


بنواسرائيل میں اختلاف پیدا ہوا اورانہوں نے اپنے عقیدے اورشریعت میں تبدیلی اورتحریف کرڈالی توحق مٹ گيا اورباطل کاظہورہونے لگا اورظلم وستم اورفساد کا دوردوراہوا امت اورانسانیت کوایسے دین کی ضرورت محسوس ہو‏ئی جو حق کوحق اورباطل کومٹائے اورلوگوں کوصراط مستقیم کی طرف چلائے تو رحمت الہی جوش میں آئی اورمحمد ﷺ کومبعوث فرمایا:اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے: اس کتاب کوہم نے آپ پراس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چيزکو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان داروں کے لیے راہنمائ اوررحمت ہے ( النحل : 64 ) ۔

نبیاء کی بعثت کا مقصد

اللہ تبارک وتعالی نے سب انبیاء ورسل اس لیے مبعوث فرما ئے تا کہ وہ اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت دیں اورلوگوں کواندھیروں سے نور ہدایت کی طرف نکالیں ، توان میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام اورآخری محمد ﷺ تھے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے: ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ ( لوگو) صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرو اورطاغوت سے بچو ( النحل : 36 ) ۔

خاتم الانبیاء

انبیاءورسل میں آخر اورخاتم النبیین محمد ﷺ ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: ( لوگو) تمہارے مردوں میں سے محمد ( ﷺ ) کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ( الاحزاب:40)

محمد ﷺ سب لوگوں کے ليے رسول

ہرنبی خاص طورپراس کی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوسب لوگوں کی طرف عام بھیجا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: اورہم نے آپ کوتمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اورڈرانے والا بنا کربھیجا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اسے کا علم نہیں رکھتی ( سبا : 28 ) ۔

نزول قرآن مجيد

اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول ﷺ پرقرآن مجید نازل فرمایا تا کہ وہ انہیں ان کے رب کےحکم سے اندھیروں سے نوراسلام کی روشنی کی طرف نکالیں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: الر یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لیے اتاری ہے کہ آپ لوگوں کوان کے رب کے حکم سےاندھیروں سے اجالے اورروشنی کی طرف لائيں ، زبردست اورتعریفوں والے اللہ کے راہ کی طرف ( ابراھیم : 1 ) ۔

محمد ﷺ کی ولادت

محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الھاشمی قریشی عام فیل (جس میں ہاتھیوں والے کعبہ منہدم کرنے آ ئے تھے تواللہ تعالی نے انہيں نیست نابود کردیا) میں مکہ مکرمہ کے علاقہ میں پیدا ہو ئے ۔

محمد ﷺ کا بچپن اور جوانی

آپ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی تھے توان کے والد کا انتقال ہوگيا اورآپ یتیمی کی حالت میں پیدا ہوئے اورانہیں حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا ، پھر والد آمنہ بنت وھب کے ساتھ اپنے مامووں کی زيارت کے لیے مدینہ آئے اورمدینہ سے مکہ واپس آتے ہو ئے راستے میں ابواء نامی جگہ پرنبی ﷺ کی والدہ فوت ہوگئيں اورنبی ﷺ کی اس وقت عمر چھ برس تھی ، اس کے بعد دادا عبدالمطلب نے کفالت کا ذمہ لیا اور جب دادا فوت ہوا تونبی ﷺ کی عمر صرف آٹھ برس تھی ۔پھر نبی ﷺ کی کفالت ان کے چچا ابوطالب نے لے لی تووہ نبی ﷺ کی نگہبانی اورپرورش کرنے لگے اوران کی عزت وتکریم کرتے اورچالیس برس سےبھی زيادہ دفاع بھی کیا ، نبی ﷺ کا چچا ابوطالب اس ڈرسے کہ آباء واجدادکے دین کوترک کرنے پر قریش اسے عار دلائيں گے اسلام قبول کیے بغیر ہی فوت ہوا ۔