• ہم محمد ﷺ کی پیروی کیوں کریں؟

اتباع سنت کی اہمیت


سنت نبوی ﷺ دین کا ایک حصہ ہے، امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: سنت نوح عليہ السلام کی کشتی کے مانند ہے، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پائے گا اور جس نے اس کا انکار کیا وہ غرقآب ہوگا۔(مجموع الفتاوی:4/57)۔ نبی کريم ﷺ  نے فرمایا: ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! انکار کون کرے گا ؟ فرمایا کہ جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا ۔(صحىح بخارى: 7280).

اصول معتبرہ

علمائے متقدمین اور متاخرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ احکام کے ثابت کرنے اور حلال و حرام کی توضیح کے لیے اصول معتبرہ چار ہیں۔

اولاً : کتاب اللہ العزیز(قرآن پاک) جس کے نہ آگے سے باطل آسکتا ہے نہ ہی پیچھے سے ۔

ثانیاً :سنت رسول ﷺ ،کیونکہ وہ اپنی نفسانی خواہش سے باتیں نہیں بتاتے ہیں،ان کا ارشاد وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔

ثالثاً : اجماع علمائے امت۔ رابعاً :قیاس :اگرچہ بعض علماء نے قیاس کے حجت ہونے میں اختلاف کیا ہےلیکن جمہور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ جب قیاس میں تمام ضروری شرائط پائی جائیں تو وہ حجت ہے چنانچہ اس اصول پر بیشمار دلائل ہیں اور اتنے مشہور ہیں کہ ان کے ذکر کی ضرورت نہیں۔

پہلی اساس (اصل) کتاب اللہ العزیز ہے

پروردگار عالم کے کلام قرآن پاک کی بہت سی آیات اس کتاب کی اتباع اور تمسک کے وجوب و فرضیت اور اس کی حدود کے پاس وقوف اور رک جانے پر دلالت کرتی ہیں۔ چناچہ باری تعالٰی کا ارشاد ہے : تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو (الاعراف: 3)

اور اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر وبرکت والی، سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو (الانعام: 155)

اور دوسرےمقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے:تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آچکی ہے ،جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور راه راست کی طرف ان کی رہبری کرتا ہے(المائدۃ: 15،16)

اور اللہ کا ارشاد گرامی ہے:جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود اس سے کفر کیا، (وه بھی ہم سے پوشیده نہیں) یہ بڑی باوقعت کتاب ہے ، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے(الفصلت: 41،42)

اور اللہ کریم فرماتے ہیں:اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعے سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں۔(الأنعام:19)

اور فرمان الہٰی ہے کہ:یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے اطلاع نامہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے وه ہوشیار کر دیے جائیں۔(ابراهيم: 52)

قرآن کریم میں اس معنی اور مفہوم کی بہت سی آیات ہیں،علاوہ ازیں بہت سی صحیح احادیث نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں۔ جن میں قرآن پاک کی اتباع اور تمسک کا حکم دیا گیا ہے اور جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس نے قرآنی احکام پر عمل کیا وہ ہدایت یافتہ ہوا اور جس نے ان احکام سے منہ موڑا وہ گمراہ ہوا۔

اور اُن احادیث میں جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں وہ خطبہ ہے جو آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دیا، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا:میں تمہارےدرمیان وہ چیز چھوڑے جارہاہوں،اگرتم اس پر عامل رہے تو ہرگزگمراہ نہ ہوگے ، وہ اللہ کی کتاب ہے۔(صحيح مسلم: 1218)

اور صحیح مسلم ہی میں نبی پاک ﷺ سے دوسری روایت مروی ہے:سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کی میں تمہارے درمیان دو قیمتی اور نفیس چیزیں چھوڑے جارہاہوں، ان دونوں میں سے پہلی کتاب اللہ ہے ،جس میں ہدایت اور نور ہے،پس تم کتاب اللہ کو پکڑ لواور اس پر مضبوطی سے عمل کرو اور دوسری میرے اہل بیت ،میں تمہیں اپنے اہل بہت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں۔ میں تمہیں اپنے اہل بہت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں۔(صحيح مسلم: 2408)

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا'' فی القرآن'' اور وہ اللہ کی رسی ہے ، جس نے اسے مضبوطی سے پکڑلیا، ہدایت یافتہ ہوا، اور جس نے اسے چھوڑ دیا گمراہ ہوا۔

اس موضوع پر احادیث بہت زیادہ ہیں، اور اس سلسلے میں ان دلائل کو طوالت سے ذکر کرنے کے مقابلے میں جو قرآن پر عمل کے وجوب کو ثابت کرتے ہیں ،صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے لیکر آج تک کے اہل علم اور اہل ایمان کا س بات پر اجماع کافی و شافی ہے کی نہ صرف کتاب اللہ پر عمل واجب ہے بلکہ تمام امورمیں کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ سنت رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے فیصلے ہوں گے اور حاصل کیے جائیں گے اور کتاب سنت کی حکمرانی ہو گی۔

دوسری اساس (اصل) سنت رسول ﷺ ہے

تین متفق علیہ اصولوں میں سے دوسری اصل اور بنیاد وہ ہے جو کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کے اقوال یا افعال یا تقریر کی شکل میں صحیح طریقے سے ثابت ہے ، اسی کا نام '' حدیث '' ہے اور اسے ہی سنت کہا جاتا ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے لیکر آج تک تمام اہل علم نہ صرف اس اصل اصیل پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ وہ اسےحجت تسلیم کرتے ہیں اور امت کو اس کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور انہوں نے اس فن میں بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں اور اسول فقہ اور مصطلح الحدیث کی کتابوں میں اسی کی وضاحت کی گئی ہے۔

سنت کے حجت ہونے پر اس قدر دلائل ہیں کہ ان کاشمار کرنا مشکل ہے۔ بعض دلائل وہ ہیں جن کاذکر قرآن پاک میں کیا گیا ہے،جن میں آپ ﷺ کی اطاعت اور پیروی کا حکم ہے اور یہ حکم آپ کے ہم عصر اور آپ کے بعد آنے والےسبھی لوگوں کے لیے ہے،اس لیے کی آپ سبھی کے لیے اللہ کے رسول (ﷺ ) ہیں اور قیامت تک کے تمام لوگ آپ کی اتباع اور پیروی کرنے کے پابند ہیں اور اس لیے کہ آپ اپنے اقوال،افعال اور تقریر کے ذریعے سے کتاب اللہ کے مفسر اور بیان کرنے والے ہیں۔

اگر سنت نہ ہوتی تو لوگوں کو نماز کی رکعات اور اس کے اوصاف و واجبات کا علم نہ ہوتا اور روزہ،زکوۃ اور حج کے احکام کی تفصیل معلوم نہ کرپاتے اور نہ ہی انہیں جہاد،امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے احکام کا پتہ چلتااور نہ ہی معاملات و محرمات سے آگاہ ہوتے اور نہ ہی انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے حدود و عقوبات میں جو امور ضروری ہیں ، ان کا علم ہوتا۔

اس سلسلے میں قرآن پاک کی بہت سی آیات ہیں جو کہ آپ ﷺ کی اتباع اور پیروی کے وجوب کو ثابت کرتی ہیں ۔ چناچہ سورة آل عمران میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے(آل عمران: 132)

اور سورة النساء میں ارشاد باری تعالٰی ہے:اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (ﷺ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔(النساء: 59)

نیز سورة النساء ہی میں فرمان باری تعالٰی ہے:اس رسول (ﷺ) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منھ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا(النساء: 80)

اور آپ ﷺ کی اطاعت کیسے ممکن ہے؟اورمتنازع فیہ امورکو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی طرف کس طرح لوٹایا جا سکتا ہے ؟اگر سنت رسول ﷺ حجت نہ ہو یا پوری کی پوری غیر محفوظ ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کو ایسی چیز کا حکم دیاجس کا وجود ہی نہیں اور یہ باطل ہے اور اللہ کی ذات سے بہت بڑے کفر کے مترادف ہے اور اس سے بد ظنی ہے

اور اللہ تعالٰی نے سورة النحل میں ارشاد فرمایا:یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وه غور وفکر کریں(النحل: 44)

اور سورة النحل ہی میں ارشاد ہے:اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے(النحل : 64)

پس کیسے اللہ تعالٰی منزل الیہم (قرآن پاک) کی تبیین (تفسیر و تشریح) کا کام نبی پاک کے سپرد کر رہے ہیں ؟اگر آپ کی سنت کا وجود ہی نہیں اور وہ حجت نہیں

اور سورة النور میں اللہ تعالٰی کا اسی طرح فرمان ہے:کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے(النور: 54)

اور اللہ تعالٰی نے اسی سورة النور میں ارشاد فرمایا:نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے(النور: 56)        اور سورة الاعراف میں ارشاد باری تعالٰی ہے:آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ(الأعراف:158)

یہ آیات اس بات پرواضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ ہدایت اور رحمت نبی کریم ﷺ کی اتباع اور پیروی میں ہے۔ اور ہدایت اور رحمت کا حصول آپ کی اتباع اور پیروی کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ یا یوں کہ کر کہ سنت صحیح نہیں ہے ،یا سرے سے قابل اعتماد ہی نہیں ہے،انسان کیونکر ہدایت اور رحمت الٰہی کا مستحق ہوسکتا ہے؟َ

اور اللہ تعالٰی نے سورة النور میں ارشاد فرمایا:سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے (النور: 63)

اور سورة الحشر مین حکم ربانی ہے:اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے(الحشر: 7)

اوراس معنی کی بہت سی آیتیں ہیں اور سب کی سب نبی پاک ﷺ کی اتباع و فرمانبرداری اور جو کچھ آپ لیکر آئے ہیں، اس کی پیروی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں ،جیسا کی کتاب اللہ (قرآن پاک) اور اس کے اوامر و نواہی پر عمل کے وجوب اور اس کی اتباع اور پیروی کے فرض ہونے پر دلائل بیان ہوچکے ہیں۔

کتاب سنت دونوں ایسی اساس اور اصل ہیں کہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ، جس نے ان میں سے کسی ایک کا انکار کیااس نے دوسری کو بھی انکار کیااور اسے جھٹلایااور یہ کفرو ضلال اور گمراہی ہے اور باجماع جملہ اہل علم و ایمان دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ کی اتباع و فرمانبرداری اور جو کچھ آپ لیکر آئےاس پر عمل کا واجب ہونا اور آپ ﷺ کی نافرمانی کا حرام ہونا،احادیث متواترہ سے ثابت ہے ،اور یہ سبھی لوگوں کے لیے ہے چاہے وہ آپ ﷺ کے زمانے میں ہون یا قیامت تک آپ کے بعد آنے والے ہوں ۔ان احادیث میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:''سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی''(صحيح البخاري: 7137، صحيح مسلم: 1835)

اور صحیح بخاری میں سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا:میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی مگر جس نے انکار کیا،تو پوچھا گیا، یا رسول اللہ ! وہ کون ہے جو انکار کرے گا؟ تو فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت مین داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کردیا۔(صحيح البخاري: 7280)

احمد ، ابو داؤد اور حاکم نے صحیح اسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل حدیث بیان کی ہے لکھتے ہیں:سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بیشک مجھے کتاب دی گئی ہے اور کتاب کے ساتھ اس کی مثل (حدیث کیونکہ وہ بھی وحی الٰہی ہے)، خبردار! قریب ہے کہ ایک شکم سیر آدمی اپنے گاؤ تکیے پر بیٹھا ہوا کہے گا کہ تم قرآن کو اپنے لیے ضروری سمجھو جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو کچھ حرام پاؤ اسے حرام سمجھو ۔(صحيح ابوداود: 4605، )

ابو داؤد اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے:سیدنا ابی رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں نہیں پاؤں تم میں سے ایک کو جو اپنے تکیے پر ٹیک لگائےبیٹھا ہوگا،اور اس کے پاس میرے احکام میں سے ایک حکم آئے گا کہ میں نے اسے کرنے کا حکم دیا ہوگا یا کرنے سے روکا ہوگا تو وہ کہے گا، ہم نہیں جانتے(کیونکہ)جو ہم کتاب اللہ میں پائیں گے،اس کی پیروی کریں گے.(صحيح ابن ماجہ: 13 )

ایک دوسری روایت میں بیان کیا گیا ہے جسے حسن بن جابر نے سیدنا مقدام بن یکرب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ:'' فتح خیبر کے دن نبی پاک ﷺ نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا،پھر آپ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ تم میں سے ایک مجھے جھٹلائے اس حال میں کہ وہ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو کہ میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو کہے گا: کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ موجود ہےہم اس میں جو حلال پائیں گے اسے حلال سمجھیں گے اور جو حرام پائیں گے اسے حرام جانیں گے،خبردار! جو رسول اللہ (ﷺ) نے حرام کیا ہے وہ بھی اسی طرح حرام ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے''(صحيح ابن ماجہ: 12)

رسول اللہ ﷺ سے متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ آپ اپنے خطبے میں صحابہ کرام کو وصیت فرماتے تھے کہ '' حاضر غائب کو پہنچا دے '' اور انہیں فرماتے تھے کہ '' بہت سے سننے والے پہنچانے والے کے مقابلے میں زیادہ یاد کرنے والے اور سمجھدار ہوتے ہیں''(صحيح البخارى: 1741، صحيح مسلم:1679 )

جیسا کی صحیحین میں ہے کی آپ ﷺ نے یوم عرفہ اور یوم نحر کو حجة الواداعکے موقع پر ارشاد فرمایا کہ:حاضر غائب کو پہنچا دے کیونکہ بہت سے سننے والے، پہنچانے والے کے مقابلے میں زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں''(صحيح البخارى: 1741، صحيح مسلم:1679 )

پس اگر آپ کی سنت سننے والے پر یا اس شخص پر جسے وہ پہنچی ہے ،حجت نہ ہوتی اور اگر آپ کی سنت قیامت تک باقی رہنے والی نہ ہوتی تو آپ اس کی تبلیغ کا حکم نہ دیتے۔ اس سے ثابت ہواسنت کے ذریعہ اس شخص پر حجت قائم ہے،جس نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سُنا اور اس شخص پر بھی جس کو یہ سنت صحیح اسناد سے پہنچی ہو۔