خطبہ حجۃ الوداع


ہجرت کے دسويں سال اللہ کے رسول ﷺ فريضہ حج کی ادائيگی کے لئے نکلے تاکہ ارکان اسلام کی عملی شکل پایئہ تکميل کو پہنچ جائے اور لوگ آپ سے مناسک حج کا طريقہ سيکھ ليں ، چنانچہ ذی القعدہ ميں اعلان کرديا گيا کہ امسال رسول اللہ ﷺ حج کے لئے نکلنے والے ہيں ،يہ خبر پورے ملک ميں پھيل گئی اور ہرطرف سے لوگ جوق در جوق مدينہ میں اکٹھا ہونے لگے یہاں تک کہ عازمین حج کا  ایک جمع غفیر مدینہ میں جمع ہو گیاجو آپﷺ کی صحبت ميں حج کرنے کواپنے لئے  باعث سعادت سمجھ رہاتھا ۔  آپ ﷺ اپنے حج میں تین مشہور ومعروف خطبہ ارشاد فرامائے جس میں آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو دین اسلام کے اصول وقواعد سے آگاہ فرمایا اور بہت سی دیگر نصیحتیں بھی آپ ﷺ نے اپنے ان خطبات میں ذکر فرمائی، جو امت کے ليے مشعل راہ ثابت ہوئے ۔

قرآن

فرمان باری تعالی ہے: آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔(المائدة: 3) ۔

اور فرمان بارى تعالى ہے: جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا.(آل عمران: 85)۔

خطبہ یوم عرفہ ... ۹ذوالحجہ

نبی ﷺنے عرفہ کے دن کا خطبہ بطن وادی (عرفہ) میدانِ عرفات میں سواری پر جمعہ کے دن ظہر کی نماز سے پہلے ارشاد فرمایا۔

خالد بن عداء  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں:''میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفہ کے دن اونٹ کی رکابوں پر کھڑے ہوکر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔'' (صحیح ابوداود :۱۶۸۷،۱۶۸۶ )۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ عرفہ کا دن جمعہ کے دن تھا۔ (فتح الباری :۸؍۲۷۰)اور  صاحب ِتحفۃ الاحوذی لکھتے ہیں کہ ''یہ عرفہ کا دن تھا اور اس دن جمعہ تھا۔'' (تحفۃ الاحوذی: ۴؍۹۶ )

مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں حمدوثنا کے بعد خطاب فرمایا۔ (بیہقی ۵؍۱۲۵)

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ  کا حج بیان کرتے ہوئے خطبہ حجۃ الوداع کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ : ''نبی کریمﷺ بطن الوادی میں آئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا: تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کردیئے گئے اور ہمارے خون میں سب سے پہلا خون جسے میں ختم کررہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہی ایام میں قبیلہ ہزیل نے اسے قتل کردیا اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارا کا سارا سود ختم ہے۔ہاں! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں گوارا نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مارنا، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ

اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب،اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔'' (صحیح مسلم :۲۹۴۱،الرحیق المختوم: ص ۷۳۳)

عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:  ''آگاہ رہو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں، حوضِ کوثر پراور میں تمہارے سبب اس اُمت کی کثرت پر فخر کروں گا، مجھے شرمندہ نہ کرنا۔خبردار! کچھ لوگوں کو میں چھوڑ دوں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑوالئے جائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ! یہ تو میرے اصحاب ہیں، سو وہ فرمائے گا تو نہیں جانتا جو اُنہوں نے تیرے بعد نئی بدعتیں ایجاد کیں۔''(صحیح ابن ماجہ للالبانی :۲۴۸۱)

عرفہ کے دن ہی یہ آیت بھی نازل ہوئی:  " آ ج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا۔''(الرحیق المختوم :۷۳۵)۔ اس کے متعلق عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ''بے شک میں بہتر جانتا ہوں کہ یہ کس مقام پر نازل ہوئی ، نبی ﷺ اس وقت عرفہ میں تھے ۔'' (بخاری:۴۴۰۷)