اللہ کون ہے؟


ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالی کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں  ،اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين ، قران مجيد اور  رسول اللہﷺ کا اللہ تعالی کے متعلق  تعارف کروانا ہے، جسے  صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم  کے مطابق سمجھنا چاہيے۔

اللہ تعالی جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قران کو نازل فرمايا تاکہ ہم  اپنی زندگی کو بامعنی بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم  قران مجيد  پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالی کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ  ہم اللہ تعال کے حقوق کو اچھے سے سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے  ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔

اسم جلالہ "الله"كى لغوی تحقیق

يہ اللہ تعالی کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالی کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی، يہ "الإله"سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں "معبود" کے يا "وہ ذات جو عبادت کی مستحق ہے"۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ"کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے، تقریباً " 2200 "مرتبہ، اللہ کا مترادف لفظ کسی بھی زبان میں نہیں ہے اور نا ہی اس لفظ کا  ہو بہو ترجمہ ممکن ہے۔

فرمان باری تعالی ہے: اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے ولا ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے(البقرۃ: 255)، اور فرمایا: تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻاور بڑا مہربان ہے۔(البقرۃ: 163)، نیز فرمایا: بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کےلائق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔(طہ: 14)، نیز فرمایا: آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے(الإخلاص: 1)۔

اللہ تعالی ہی رب ہے

"رب" کا لفظ لغت میں مالک، مدبر، مربی، نگران کے لے مستعمل ہے، يہ لفظ بغير اضافت کے صرف اللہ تعالی کے لے ہی خاص استعمال ہوتا ہے، اورجب اسےکسی اور کے ليے استعمال  کیا جاتا ہي تو اضافت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے،جیسے"رب البیت" گھر کے مالک کو کہا جاتا ہے۔ الله تعالى ربوبیت میں اکیلا اور تنہا ہے ربوبیت میں اس کا کوئی شریک اور ہمسر نہیں ہے،

توحيد ربوبیت

اللہ تعالی اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے، یعنی اللہ تعالی  "خلق"  "ملك"  "تدبىر" مىں يکتا اور اکیلا ہے،اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالی ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔

اور فرمایا: بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔(الأعراف: 54)، اور فرمایا: لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو۔(فاطر: 3)، اور فرمایا: آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔(آل عمران: 189)، اور فرمایا: پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟۔(المؤمنون: 88)۔