اللہ تعالی کے حقوق


بندوں پر سب سے پہلاحق اگر کسی کا واجب ہوتاہے تو وہ  اللہ سبحانہ وتعالی کا ہے، جس نے کائنات کو پيدا فرمايا پوری حکمت ودانائی کے ساتھ۔  وہی ہے جس نے تمام چيزوں کو عدم سے وجود بخشا ، وہ ايک اللہ ہی ہے جس نے تمام انسانوں کی حفاظت فرمائی ان کے ماؤں کے پيٹ ميں اور جب وہ دنيا ميں آئے اور پروان چڑھے يہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئے، وہی اللہ ہے جو تمام مخلوق کا پالنہار ہے اور پھر ان کے زندگيوں کی تمام ضروريات کا اہتمام فرماتا ہے۔

قرآن

اللہ  تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو ۔( النحل:78) اگر اللہ تعالی اپنی مخلوق سے کچھ دير کے ليے منہ پھير لے تو ساری کی ساری مخلوق تباہ وبرباد ہو جائے اور ان کی زندگی معطل ہو کر رہ جائے، يہ اس کی رحمت کا تقاضہ ہی ہےکہ وہ ساری کائنات کو زندہ رکھے ہوئے  ہے۔

حديث

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نےپوچھا یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ۔ آپ ﷺ نےفرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، انہوں نے کہا پھر اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو تمہاری روزی میں شریک ہو گا ۔ انہوں نے کہا اس کے بعد آپ ﷺ  نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الھا آخر “ الخ ، نازل کی کہ ” اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ ناحق کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ وہ زنا کرتے ہیں ۔ “(صحیح بخاری: 6001)۔

معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے ۔ (صحیح البخاری: 2856) ۔

اللہ کی جانب سے رزق

اللہ تعالی کائنات کا مدبر ہے، اس کے انعامات اپنی مخلوق پر بيشمار ہيں جن کا احاطہ بندے کر نہيں سکتے، جب اللہ تعالی کے يہ احسانات ہيں مخلوق پر تو ان پر يہ واجب ہے کہ وہ اس کے حقوق کو سب پہلے  ادا کرے، اللہ تعالی بے نياز ہے اسےکسی چيز کی حاجت نہيں۔

 اللہ تعالی نے فرمايا:ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، اور نیک انجام اہل تقویٰ  (پرہيز گاروں )کا ہے۔( طہ :132)

تخليق کائنات  کا مقصد

فرمان باری تعالی ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں میں ان سے طالبِ رزق نہیں، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے (کھانا) کھلائیں، اللہ ہی تو رزق دینے والا زور آور اور مضبوط ہے۔( الذاريات: 56-58)۔

اللہ تعالی کا بندوں سے بس يہ مطالبہ ہے کہ وہ اس کی خالص عبادت کريں اور اس کے  ساتھ عبادت ميں کسی کوشريک نہ کريں، اور حقيقی معنوں ميں اس کے بندے بن جائيں،  اور اپنی زندگی کو اس کے مطابقگذاريں ، يہ عين انصاف  کا تقاضہ ہے کہ  اس ايک اللہ کی عبادت کی جائے جو تمام کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔

تمام برکتيں اللہ کی طرف سے ہیں

ايک انسان کو چاہيے کہ وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرٍے اس کی خالص عبادت کے ذريعہ جس نے اسے تمام نعمتيں عطا کی ہيں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو(النحل:53