عبادت اور اس کے ارکان


اللہ تعالی نے انسان اور جنات کو صرف اور صرف اس کی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔(الذاریات: 56)، اور اللہ تعالی نے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف دعوت دینے کے رسولوں کو مبعوث فرمایا اور پھر کتابیں بھی نازل فرمائی،فرمان بارى تعالى ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟(النحل: 36)۔

اللہ تعالی کا حق

اللہ تعالی نے انسان اور جنات کو صرف اور صرف اس کی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔(الذاریات: 56)، اور معاذ بن جبل  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں  کہ نبی کریم ﷺ جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ،  اس گدھے کا نام عفیر تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے ۔ (صحیح البخاری: 2856) ۔

عبادت کی تعریف

شیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں کہ لفظ ’‘عبادت ’‘ کے دو مفہوم ہیں ،ایک عام ،اور ایک خاص۔

(1)عبادت کا عام مفہوم تو یہ ہے کہاللہ کےلئے ،اللہ تعالى كى محبت ركھتے ہوئے اور اس كا خوف اور اس سے ثواب كى امید ركھتے ہوئے كوئى عمل  كر كے اللہ تعالى كى اطاعت كى جائے یا اس كا حكم مانا جائے اور اس كے منع كردہ كام سے ركا جائے.

(2)عبادت کا خاص مفہوم یہ ہے،جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ نے بیان کیا ہے  كہ عبادت ایسا جامع لفظ ہے جو ان تمام ظاہری وباطنی اقوال واعمال پر بولا جاتا ہے جنہیں اللہ تعالی پسند فرماتا ہے اور جن سے راضی ہوتا ہے، جیسے نماز، زکات ، روزہ، حج، سچی بات کہنا، امانت ادا کرنا،والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، کفار و منافقین سے جہاد کرنا، پڑوسی اور یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا،مساکین ومسافرین کی مدد کرنا، غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، جانوروں پر رحم کرنا،دعا، ذکر، تلاوت قرآن مجید کرنا یہ سب عبادات ہے ۔(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 10/149)۔ فرمان باری تعالی ہے: آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔(الأنعام: 162،163)۔

عبادت زندگی کے تمام شعبوں کومحیط ہے

بلا شبہ عبودیت ایك ایسا معاملہ ہے جو مسلمان كى مكمل زندگى كو شامل ہے، لھذا جب وہ رزق كى تلاش میں روئے زمین میں گھومتا پھرتا ہے تو یہ رزق كى تلاش اور اس كا گھومنا بھى عبادت ہے كیونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے اسے اس كا حكم مندرجہ ذیل فرمان میں دیا ہے:ارشاد بارى تعالى ہے:تم اس كى راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ كى روزیاں كھاؤ اور اسى كى طرف تمہیں جى كر دوبارہ اٹھنا ہے( الملك: 15)۔

اور جب مسلمان شخص نیند كرتا اور سوتا ہے تو اس لیے كہ اللہ تعالى كى عبادت كے لیے اپنى طاقت بحال كر سكے جیسا كہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالى عنہ كا كہنا ہے:میں اپنى نیند میں بھى اسى طرح اجروثواب كے حصول كى نیت كرتا ہوں جس طرح اپنے بیدار ہونے میں اجروثواب كى نیت ركھتا ہوں" صحیح بخارى :4342)۔

یعنى جس طرح قیام اللیل میں اجروثواب كى نیت كرتے اسى طرح نیند میں بھى اجروثواب كے حصول كى نیت كرتے تھے، بلكہ مسلمان شخص تو اس كے علاوہ كسى بات پر راضى ہى نہیں ہو سكتا كہ اس كے نكاح اور كھانے پینے اور نفع حاصل كرنا یہ سب كچھ اس كى حسنات اور نیكیوں میں شامل ہوں، جیسا كہ رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم كا نے بھى فرمایا:اور تمہارے ہر ایك كے ٹكڑے میں صدقہ ہے ، تو صحابہ كرام نے عرض كی: اے اللہ تعالى كے رسول ﷺ كیا جب كوئى ہم میں سے اپنى شہوت پورى كرتا ہے تو اس میں اس كے لیے اجر بھى ہے؟ تو رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھا تم مجھے یہ بتاؤ كہ اگر اسے حرام كام میں استعمال كرے تو كیا اسے گناہ ہو گا؟ تو صحابہ كرام نے عرض كیا: جى ہاں، تو رسول كریم ﷺنے فرمایا:تو اسى طرح اگر وہ حلال كام میں استعمال كرے تو اسے اجرو ثواب ملے گا"  (صحیح مسلم :  1006 ) .