نبی اکرم ﷺکاغیرمسلم کے ساتھ  صبر وتحمل اور خیر خواہی کی بے نظیر مثال:

محمد جاوید اشرف ۔  مدینۃ منورۃ

            یہ دین اسلام جس کے آخری داعی خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم ہیں سارے انسانوں کے لئے ہے ، سارے انسانوں کو اسی دین وحدانیت سے جوڑنا ہے ، دعوت دین کی خاطر ایسی ایسی قربانیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے دی ہیں کہ جن کو پڑھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے ، مکہ کے کافروں نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے لئے مکہ میں رہنا دوبھر کردیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی ،یہاں آکر بھی چین سے رہنے نہ دیا ،دوسرے ہی سال جنگ بدر میں کفاران مکہ نے اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی ، اس میں ناکامی ہوئی تو اگلے سال سنہ تین ہجری میں مدینہ پر لشکر کشی کی جس کے نتیجہ میں احد کا معرکہ پیش آیا ، اس پر بھی بس نہیں تو دس پزار کا لشکر جرار لے کر مدینہ پر چڑھائی کے لئے سارا عرب امنڈ پڑا اور غزوہُ خندق کا واقعہ پیش آیا ، مگر ہر جگہ ان کافرون کو ناکامی و نامرادی کا ماسنا کرنا پڑا ، اب عمرہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے جانا چاہتے ہیں تو اس عبادت کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے جس کے نتیجہ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا ، اس واقعہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے صبر و تحمل اور بردباری اور کافروں کے ساتھ نصیحت و خیر خواہی کا عظیم نمونہ پیش فرمایا کہ رہتی دنیا تک کے لئے دعوتِ دین کی راہ میں روشن چراغ ہے ، اور امت کے لئے سبق ہے کہ ہر وہ پہلو جس میں بظاہر مسلمانوں کو دبنا پڑ رہا ہو مگر اس میں بہت سے انسانوں کی ہدایت کے امکانات ہوں تو ایسے پہلو کو قبول کر لینا چاہئے کہ مقصود دنیائے انسانیت کی ہدایت ہے ، ملاحظہ فرمایئے آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ الفاظ جو آج بھی وہی تاثیر و معنویت رکھتے ہیں جو لسانِ نبوت سے نکلتے وقت رکھتے تھے ، " اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میرے سامنے وہ (یعنی مکہ کے کفار) کوئی بھی ایسی تجویز رکھیں گے جس میں اللہ تعالی کی حرمات کی تعظیم کا پہلو ہو تو میں اس کو قبول کرلوں گا" ۔ (بخاری کتاب الشروط)

            صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو مندوب بن کر سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ صلح کا معاملہ طئے پائے (سہیل بن عمرو بھی کافر تھے اس واقعہ کے بعد اسلام میں داخل ہوئے ) اس صلح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارِ قریش کی پیش کردہ تمام شرائط کو قبول فرمایا ، جبکہ بعض شرطیں ایسی تھیں جو مسلمانوں کے حق میں سخت تھیں تاہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی روشنی میں ان سب کو قبول فرمایا ، اور اس صلح نامہ میں کافروں کے ساتھ ایسی نرمی اور رحمت کا پہلو اختیار فرمایا کہ ایسی صلح و مصالحت کے موقع پر کسی قائد کے لئے ممکن نہیں ، قارئین اس صلح کی شرائط پر غور فرمائیں تا کہ معلوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامنِ رحمت اس اہم موقع پر بھی کتنا وسیع تھا ۔

مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سہیل بن عمرو آئے اور عرض کیا ہمارے اور آپ کے درمیان صلح نامہ تحریر کیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب (حضرت علی رضی اللہ عنہ) بلوا کر فرمایا : لکھو : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، سہیل نے کہا : رحمٰن کیا چیز ہے ہمیں نہیں معلوم ؟ لہذا آپ باسمک اللہم لکھیں جیسا کہ پہلے سے یہ لکھنے کی عادت چلی آرہی ہے ، مسلمان اس پر بر افروختہ ہوگئے اور کہنے لگے ہم تو بسم اللہ ۔۔۔ الخ  ہی لکھیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : باسمک اللہم ہی لکھو ، پھر فرمایا : یہ صلح نامہ ہے جس پرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاق کیا ہے ، محمد رسول اللہ سن کر سہیل بن عمرو کہنے لگے : اگر ہم یہ تسلیم کرلیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے ، اور نہ آپ سے جنگ کرتے ، لہذا آپ صرف محمد بن عبداللہ ہی لکھیئے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں خواہ تم مجھ کو جھٹلاوُ ، پھر فرمایا : لکھو محمد بن عبداللہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان سے ہٹ جاوُ تا کہ ہم طواف کر لیں ، سہیل نے کہا : اللہ کی قسم اگر ہم نے آپ کو طواف کی اجازت دیدی تو سارا عرب ہمیں ملامت کرے گا کہ یم نے دب کر صلح کی ہے ، البتہ آئندہ سال آپ طواف کر سکتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو بھی مان لیا ، اس کے بعد سہیل نے کہا : آپ کے پاس ہم میں سے جو شخص بھی آئے گا  آپ  اسے ہماری طرف لوٹا دیں گے ، خواہ وہ آپ ہی کے دین پر ہو ، اور اگر آپ کا آدمی (مسلمان ) ہمارے پاس آئے گا تو ہم اس کو واپس نہ کریں گے آپ صلی اللہ