آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین کے لئے بددعا نہ فرمانا 

محمد جاوید اشرف ۔  مدینۃ منورۃ

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مظاہر رحمت ہی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مشرکین دشمنوں کے لئے بد دعا نہیں فرمائی ، مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا ، ستایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر شدید ترین ظلم و ستم کئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایسے بھی واقعات آئے کہ آپ کے جسم اطہر سے خون بہنے لگا ،(جیسا کی طائف اور احد کے موقع پر پیش آیا ) مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کریمی کہ آپ نے ان کافر و مشرک جان کے دشمنوں کے لئے ہلاک ہونے یا تباہ و برباد ہونے کی بد دعا نہیں فرمائی ، یہی نہیں کہ بد دعا نہیں فرمائی بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے پہاڑوں پر مامور فرشتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب دینے سے روک دیا ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں یا رسول اللہ  کیا احد سے زیادہ سخت کوئی دن آپ کی زندگی میں آیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔ ہاں سب سے زیادہ سخت دن وہ تھا جب میں نے عقبہ کے دن ابن عبد یالیل بن کلال پر دعوت پیش کی اور اس سےامان طلب کی ، مگر اس نے اعراض کی اور دعوت ٹھکرائی ، اس شدید غم کے ساتھ میں وہاں سے واپس ہوا کہ مجھے قرن ثعالب کے مقام پر ہوش آیا (یعنی شدت غم کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہوگئی کہ آپ حزن و ملال سے چور چور ہوکر رہ گئے ) میں نے سر اٹھایا تو میرے سر پر بادل سایا کئے ہوئے تھا ، میں نے اس میں دیکھا کہ جبریل ( علیہ السلام ) ہیں ، جنھوں نے مجھے پکار کر فرمایا : اللہ تعالی نے آپ کی قوم کا آپ کے ساتھ اعراض والا معاملہ دیکھ لیا ہے ، اس لئے آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تا کہ آپ اپنی قوم کے بارے میں اس پہاڑ کے فرشتہ کو جو چاہیں حکم فرمائیں ، اتنے میں پہاڑ کے فرشتہ نے مجھے یا محمد کہہ کر پکارا اور سلام کیا ، اور مجھ سے گویا ہوا : اے محمد بلا شبہ اللہ تعالی نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا ہے ، میں پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں ، آپ جو حکم چاہیں مجھے دیں میں پورا کروں گا ، اگر آپ چاہیں تو میں ان " اہل مکہ " پر اخشبین (دو پہاڑ) گرا دوں  (یعنی میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان آپ کی اس قوم کو پیس کر رکھ دوں ) اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی پشتوں سے ایسی نسلیں پیدا فرمادیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ شرک نہیں کریں گے ۔ (بخاری و مسلم) اللہ اللہ قربان جائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کیسے رحیم تھے کیسے شفیق تھے ، دشمن نے نہ صرف یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ دعوت کو ٹھکرایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہایت نا روا سلوک کیا (جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اوباش لڑکے لگا دئیے جنہوں نے پتھر مار مار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لہو لہان کر دیا ) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کیا ، زخموں  سے خون بہہ رہا ہے ، آسمانوں میں کہرام مچا ہوا ہے کہ آج آمنہ کا لال اللہ کا لاڈلا نبی اسلام کی دعوت پیش کرنے میں خون آلودہ ہو گیا ہے ، ذات الہی کو بھی اپنے پیارے نبی پر ایسا ترس آیا اور ان نالائقوں کی سرکشی پر ایسا غضب آیا کہ پہاڑ کے فرشتہ کو بھیج دیا کہ جاوُ میرے لاڈلے کی خبر لو جو وہ کہیں وہ کرو ، اگر وہ کہیں اس ساری بستی کو نیست و نابود کردو تو ان کے حکم کی تعمیل کرکے اس بستی کو برباد کردو ، فرشتہ حاضر خدمت ہے فیصلہ کا منتظر ہے ملائکہ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں ، کہ آج ان اہل مکہ کی تباہی کا دن ہے ، اور ان کی زندگیوں کا آخری دن ہے ، مگر رحمت والے نبی ، شفقت کے پیکر نبی نرم دل و نرم خو نبی کفار دشمنوں کے لہولہان اور خون آلودہ کردینے کے باوجود جبریل امین کے کہنے اور پہاڑ کے فرشتہ کی درخواست کے باوجود اپنے ان کافر دشمنوں کے لئے اپنے دل کے اندر ان کی خیر خواہی کے جذبہ کا اظہار کرتے ہوئےگویا بزبان حال فرما رہے ہیں : نہیں نہیں ان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے میں نہیں آیا ، بلکہ میں تو ان کی ہدایت کا پیغام لے کر آیا ہوں ، یہ جو چاہیں میرے ساتھ کریں یہ ناسمجھ ہیں ، میں تو ان کے لئے رحمت بن کر آیا ہوں ، ان کے لئے ہی نہیں ساری انسانیت بلکہ ساری کائنات کے لئے پیکر رحمت و شفقت بن کر آیا ہوں ، میں ناامید نہیں ہوا ہوں ، اور پھر زبان قال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : یہ نہ سہی تو ان کی نسلوں سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ایسی نسلیں پیدا فرمائیں گے جو ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کے پرستار ہوں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں گے ۔

       رحمت والے نبی شفقت و پیار سے لبریز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ ان ظالموں کافروں کو تباہی سے بچالیا بلکہ ان سے ایسے پر امید ہونے کا اظہار فرمایا کہ ان کی نسلوں میں اسلام لانے والے ہوں گے ، اور تاریخ مے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا مکہ مکرمہ کے جن کفار و مشرکین نے ستایا وہ یا تو حلقہ بگوش اسلام ہوگئے یا بدر وغیرہ میں مارے گئے ، اسی طرح طائف کے اکثر