بنی اکرم ﷺکا حلم اور عفو و درگزرایک بڑے کافرمجرم کے ساتھ

محمد جاوید اشرف ۔  مدینۃ منورۃ

            قبیلہ بنو حنیفہ یمامہ کا معروف قبیلہ تھا،اسی قبیلہ میں مسیلمہ کذاب تھا،جس نے عہدنبوی ہی میں نبوت کا جھوٹا دعوی کردیا،اور دعوی ہی نہیں بلکہ اپنی نبوت کے اقرار کے لئے اپنے دو ایلچی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں بھیجے،جن میں سے ایک شخص کا نام ابن النواحہ اور دوسرے شخص کا نام ثمامہ ابن اثال تھا،ثمامہ یمامہ کے اپنے ایک قبیلہ حنیفہ کا سردار تھا۔یمامہ کے نبوت کے جھوٹے نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب کے یہ دونوں ایلچی آن  حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورآکر مسیلمہ کی نبوت کا اظہار کیا،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کے میں اللہ کا رسول ہوں،ان دونوں نے کہا: ہم اسکی گواہی دیتے ہے کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے،اس پر آپ صلی اللہ علیہ اسلم نے ارشاد فرمایا:اگر پیغام لانے والوں کا قتل کرنا درست ہوتا تو میں تمہیں قتل کردیتا،یہ فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو چھو ڑدیا ، ان میں سے اول الذکر یعنی ابن النواحہ کو حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں حالتِ کفر میں قتل کیا ، اور دوسرے شخص یعنی ثمامہ کا واقعہ اس طرح حدیث و سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے ۔

            حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے علاقہ میں ایک سریہ روانہ کیا ،اس سریہ نے ایک مقام سے بنو حنیفہ کے ایک فرد کو گرفتار کرلیا جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا ، ان حضرات نے اس کو لا کر مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو دیکھا تو اہل سریہ سے دریافت کیا ،تمہیں معلوم ہے تم کس شخص کو پکڑ کر لائے ہو؟ان لوگوں نے عرض کیانہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ثمامہ ہے جو اہل یمامہ کا سردار ہے،اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی، اپنے اہل خانہ سے بھی فرمایا کہ جو کچھ ہوسکے ثمامہ کے لئے بھیج دیا کرو، اگلے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ثمامہ کے  پاس تشریف لائے اور اس سے فرمایا:ثمامہ کیا حال ہے ،کیا چاہتے ہو؟ ثمامہ نے جواب دیا : اگر آپ مجھے قتل کر دیں گے تو مجھے قتل کرنے کا آپ کو حق ہے کہ میں قاتل ہوں ، اور اگر آپ مجھ پر احسان اور نظر کرم فرمائیں گے تو میں ایسا شخص ہوں کہ زندگی بھر شکر گزار رہوں گا، اور اگر آپ کو مال چاہیئے تو جتنا کہیں میں آپ کو مال دیدوں ، یہ جواب سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا اور تشریف لے گئے ، دوسرے روز پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثمامہ کے پاس تشریف لائے اور اس پوچھا : کیا حال ہے کیا چاہتے ہو ؟ اس نے پھر وہی بات دہرائی کہ : اگر آپ مجھے قتل کر دیں گے تو مجھے قتل کرنے کا آپ کو حق ہے کہ میں قاتل ہوں ، اور اگر آپ مجھ پر احسان اور نظر کرم فرمائیں گے تو میں ایسا شخص ہوں کہ زندگی بھر شکر گزار رہوں گا، اور اگر آپ کو مال چاہیئے تو جتنا کہیں میں آپ کو مال دیدوں ،اس بار بھی رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب سن کر واپس تشریف لے گئے ، تیسرے روز پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثمامہ کے پاس تشریف لائے اور اس سے پوچھا : کیا حال ہے کیا چاہتے ہو ؟ اس نے پھر وہی جواب دیا جو اوپر مذکور ہوا ، تب رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ثمامہ کو چھوڑ دو ، ثمامہ قید سے باہر نکل کر نزدیک ہی باغ میں ایک پانی کے چشمہ پر گئے اور غسل کیا اپنے کپڑے صاف کئے اور واپس مسجد نبوی آئے ، آکر عرض کیا : اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمداً رسول اللہ" میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، اسلام میں داخل ہوتے ہی ثمامہ نے جو بات کہی وہ بھی سننے کے قابل ہے ، ثمامہ نے اللہ کی قسم کھائی اور کہا : اے محمد!آپ کے چہرے سے برا چہرا میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی نہ تھا،اور اب آپ کا چہرہ مبارک روئے زمین کے سارے چہروں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے،اللہ کی قسم تمہارے دین سے زیادہ برا دین میرے نزدیک کوئی دین نہ تھا۔اور اب تمہارا دین میرے نزدیک سب سے بہتر دین ہو گیا،اللہ کی قسم تمہارے شہر سے برا کوئی شہر میرے نزدیک نہ تھا،اور اب تمہارا شہر ساری دنیا