Search

دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک

 

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین کے لئے بددعا نہ فرمانا 

مولانا جاوید اشرف ۔  مدینۃ منورۃ

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مظاہر رحمت ہی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مشرکین دشمنوں کے لئے بد دعا نہیں فرمائی ، مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا ، ستایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر شدید ترین ظلم و ستم کئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایسے بھی واقعات آئے کہ آپ کے جسم اطہر سے خون بہنے لگا ،(جیسا کی طائف اور احد کے موقع پر پیش آیا ) مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کریمی کہ آپ نے ان کافر و مشرک جان کے دشمنوں کے لئے ہلاک ہونے یا تباہ و برباد ہونے کی بد دعا نہیں فرمائی ، یہی نہیں کہ بد دعا نہیں فرمائی بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے پہاڑوں پر مامور فرشتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب دینے سے روک دیا ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں یا رسول اللہ  کیا احد سے زیادہ سخت کوئی دن آپ کی زندگی میں آیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔ ہاں سب سے زیادہ سخت دن وہ تھا جب میں نے عقبہ کے دن ابن عبد یالیل بن کلال پر دعوت پیش کی اور اس سےامان طلب کی ، مگر اس نے اعراض کی اور دعوت ٹھکرائی ، اس شدید غم کے ساتھ میں وہاں سے واپس ہوا کہ مجھے قرن ثعالب کے مقام پر ہوش آیا (یعنی شدت غم کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہوگئی کہ آپ حزن و ملال سے چور چور ہوکر رہ گئے ) میں نے سر اٹھایا تو میرے سر پر بادل سایا کئے ہوئے تھا ، میں نے اس میں دیکھا کہ جبریل ( علیہ السلام ) ہیں ، جنھوں نے مجھے پکار کر فرمایا : اللہ تعالی نے آپ کی قوم کا آپ کے ساتھ اعراض والا معاملہ دیکھ لیا ہے ، اس لئے آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تا کہ آپ اپنی قوم کے بارے میں اس پہاڑ کے فرشتہ کو جو چاہیں حکم فرمائیں ، اتنے میں پہاڑ کے فرشتہ نے مجھے یا محمد کہہ کر پکارا اور سلام کیا ، اور مجھ سے گویا ہوا : اے محمد بلا شبہ اللہ تعالی نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا ہے ، میں پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں ، آپ جو حکم چاہیں مجھے دیں میں پورا کروں گا ، اگر آپ چاہیں تو میں ان " اہل مکہ " پر اخشبین (دو پہاڑ) گرا دوں  (یعنی میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان آپ کی اس قوم کو پیس کر رکھ دوں ) اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی پشتوں سے ایسی نسلیں پیدا فرمادیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ شرک نہیں کریں گے ۔ (بخاری و مسلم) اللہ اللہ قربان جائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کیسے رحیم تھے کیسے شفیق تھے ، دشمن نے نہ صرف یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ دعوت کو ٹھکرایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہایت نا روا سلوک کیا (جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اوباش لڑکے لگا دئیے جنہوں نے پتھر مار مار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لہو لہان کر دیا ) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کیا ، زخموں  سے خون بہہ رہا ہے ، آسمانوں میں کہرام مچا ہوا ہے کہ آج آمنہ کا لال اللہ کا لاڈلا نبی اسلام کی دعوت پیش کرنے میں خون آلودہ ہو گیا ہے ، ذات الہی کو بھی اپنے پیارے نبی پر ایسا ترس آیا اور ان نالائقوں کی سرکشی پر ایسا غضب آیا کہ پہاڑ کے فرشتہ کو بھیج دیا کہ جاوُ میرے لاڈلے کی خبر لو جو وہ کہیں وہ کرو ، اگر وہ کہیں اس ساری بستی کو نیست و نابود کردو تو ان کے حکم کی تعمیل کرکے اس بستی کو برباد کردو ، فرشتہ حاضر خدمت ہے فیصلہ کا منتظر ہے ملائکہ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں ، کہ آج ان اہل مکہ کی تباہی کا دن ہے ، اور ان کی زندگیوں کا آخری دن ہے ، مگر رحمت والے نبی ، شفقت کے پیکر نبی نرم دل و نرم خو نبی کفار دشمنوں کے لہولہان اور خون آلودہ کردینے کے باوجود جبریل امین کے کہنے اور پہاڑ کے فرشتہ کی درخواست کے باوجود اپنے ان کافر دشمنوں کے لئے اپنے دل کے اندر ان کی خیر خواہی کے جذبہ کا اظہار کرتے ہوئےگویا بزبان حال فرما رہے ہیں : نہیں نہیں ان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے میں نہیں آیا ، بلکہ میں تو ان کی ہدایت کا پیغام لے کر آیا ہوں ، یہ جو چاہیں میرے ساتھ کریں یہ ناسمجھ ہیں ، میں تو ان کے لئے رحمت بن کر آیا ہوں ، ان کے لئے ہی نہیں ساری انسانیت بلکہ ساری کائنات کے لئے پیکر رحمت و شفقت بن کر آیا ہوں ، میں ناامید نہیں ہوا ہوں ، اور پھر زبان قال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : یہ نہ سہی تو ان کی نسلوں سے مجھے امید ہے کہ اللہ

 

تعالی ایسی نسلیں پیدا فرمائیں گے جو ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کے پرستار ہوں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں گے ۔

       رحمت والے نبی شفقت و پیار سے لبریز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ ان ظالموں کافروں کو تباہی سے بچالیا بلکہ ان سے ایسے پر امید ہونے کا اظہار فرمایا کہ ان کی نسلوں میں اسلام لانے والے ہوں گے ، اور تاریخ مے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا مکہ مکرمہ کے جن کفار و مشرکین نے ستایا وہ یا تو حلقہ بگوش اسلام ہوگئے یا بدر وغیرہ میں مارے گئے ، اسی طرح طائف کے اکثر

لوگ اسلام کے سایہ میں آئے بہت کم ایسے تھے جو حنین وغیرہ جنگ میں مارے گئے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کافروں و مشرکوں کے ساتھ ایسی بے مثال خیر خواہی اور بھلا چاہی کی کوئی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں مل سکتی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کافروں و مشرکوں سے ایمان کی امید کی کرن ایسا روشن سورج بن کر ابھری کہ ان سابقین اولین دشمنان اسلام کفار و مشرکین کی اکثریت نے اسلام قبول کیا ، اور ان کی نسلوں نے خوب اسلام کی آبیاری کی ، (سیرت مبارکہ کے دوسرے رخ میں بلا شبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہت سے غزوات اور قتل و قتال کے معرکے ملتے ہیں مگر جب دیانت داری کے ساتھ غزوات و سرایا پر نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار و مشرکین سے جتنے بھی غزوات فرمائے ان میں ہلاک ہونے والے کفار و مشرکین کی کل تعداد صرف (۱۳۰)ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام قتل و قتال والا مذہب نہیں بلکہ امن و شانتی اور دنیائے انسانیت کی خیر خواہی اور ان کی فوز و فلاح کی سعادت کا ضامن ہے اور اس میں قتل و قتال کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی زخم کے فاسد مادہ کو آپریشن کے ذریعہ نکالا جائے تا کہ جسم اس کے زہریلے اثر سے محفوظ و مامون رہے ، اس لئے انسانیت کے دشمنوں کی ہلاکت میں انسانیت کی حیات ہے ) ۔

       یہ ہے وہ اسوہُ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو امت کے افراد سے مفقود ہے بلکہ خواص امت سے بھی عنقا ہو چکا ہے ، کاش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر ایمان رکھنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کا عاشقانہ جذبہ رکھنے والے اس نبوی اسوہ کو اپنی زندگی میں اپنائیں کہ کافروں و مشرکوں کے ایمان سے مایوسی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیوہ نہیں رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے والوں کو چاہیئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسی حلم و بردباری اور دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک و رواداری اور کافروں و مشرکوں کے اسلام میں داخل ہونے یا ان کی نسلوں سے ایمان والوں کی آمد کی ایسی ہی امیدیں رکھیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی اور اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اسوہ اور نمونہُ بنائیں ۔واللہ یہدی الی الحق و الی صراط مستقیم ۔  

 

 

 

اردو پمفلٹ

     
     
     
     
     

Home Work

اسلامی اردو کتب خانہ

اردو ویڈیو

اللہ کی رحمت

آو قرآن سمجھیں

Hajj and Umrah Book

Asma ul Husna Book

Quran Online

tvquran_3.gif

photoicon.png

Help Promoting This Web Site

Go to top