نبی اکرم ﷺ کا ایسے کافر دیہاتی سے حسن سلوک جس  نے آپ  کو قتل کرنا چاہا

            نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے رحمۃللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ، رحمۃللعالمین کا مطلب یہ کہ ساری کائنات کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت عام ہے ، جس میں دوست کیا دشمن کیا ، اپنے کیا ، پرائے کیا ، مسلم کیا غیر مسلم کیا ، غرض یہ کہ ساری انسانیت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی میں پیار و شفقت ودیعت فرمادی گئی تھی ، بلکہ اپنے جان لیوا دشمنوں تک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نرمی اور عفو درگذر کے ساتھ پیش آتے تھے یہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کو عصرِ حاضر میں خوب عام کرنے کی ضرورت ہے ، ایک ایسے دور میں جب انسان بلکہ مسلمان بھی اپنے بھائی اور اپنے عزیز کی غلطیوں اور اس کی کوتاہیوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں سے عفو و درگزر کا معاملہ فرماتے اور اس طرح امت کو یہ سبق دیتے کہ اسلام میں معاف کرنا اور دوسروں سے درگزر کا معاملہ کرنا اہم ترین عبادت ہے ، اور اس پر ربِ کائنات کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے ، اور پھر عفو و درگزر کے بے شمار فوائد اس دنیا میں بھی حاصل ہوتے ہیں ، اسلام دشمنوں نے ایک غلط پروپیگنڈہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ کر رکھا ہے اور کرتے رہتے ہیں کہ اسلام سخت مذہب ہے ، اور اس میں قتل و قتال ہے ، جہاد ہے جس میں جانوں کا ضیاع ہے وغیرہ وغیرہ بے ہودہ الزامات اور اتہامات جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، اور اس طرح کا پروپیگنڈہ یا تو اسلام سے عداوت و دشمنی کا نتیجہ ہوتا ہے ، یا پھر اس سے جہالت کا سبب ، ورنہ اسلام کی تاریخ سے ادنی واقفیت رکھنے والا بھی اسلام کے رحمت بھرے پیغام اور اس کی رحمت بھری تعلیم سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، گذشتہ کئی قسطوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دشمنوں کے ساتھ کس طرح عفو و درگذر کا معاملہ ہوتا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کفار و مشرکین اور یہود و نصاری سے نرم و خوش خلقی اور سماحت و معافی سے پیش آتے تھے ، اس کا ذکر ہوتا رہا ، اسی سلسلہ میں بعض واقعات ملاحظہ فرمائیں ، ان کو خود بھی پڑھیں اور اپنے غیر مسلم بھائیوں تک بھی پہنچائیں تاکہ ان کی غلط فہمی دور ہو ، اور وہ بھی اپنے نبی ﷺ(اگرچہ وہ نہیں مان رہے ہیں مگر نبی اکرم ﷺان کے بھی نبی ہیں )