آپ  ﷺکا ایک یہودی قاتل سے انتقام نہ لینا

رحمۃ للعالمین ﷺکا کفار کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ اور ان کی ابدی و دائمی نصیحت و خیر خواہی تا حیات رہی ، اس میں جنگ و صلح ، رضا وغضب سب حالات یکساں رہے ، چنانچہ کبھی غصہ و غضب کے حال میں بھی پیکر رحمت و شفقت ذات عالی ، صلوات ربی وسلامہ علیہ نے غیر مسلموں کی ہلاکت اور ان کی بربادی نہ چاہی ، ہاں بعض مواقع ایسے ضرور آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظالموں کے لئے بد دعا فرمائی مگر یہ بد دعا بھی دعوتی حجت قائم ہونے اور ظالموں کے برے کرتوتوں کے سبب سے فرمائی ، ورنہ رحمت للعالمین ﷺکی ذات عالی میں اللہ تعالی نے ایسی شفقت و رحمت ودیعت فرمائی کہ کسی باپ کو بھی شاید اپنی صلبی اولاد سے نہ ہو جو آپ کو اپنے ادنی امتی سے تھی ،آپ ﷺہر انسان کی ابدی و دائمی خیر خواہی چاہتے ، آپ ﷺکی ہر ممکن کوشش ہوتی کہ بنی آدم سب کے سب اسلام کی آغوش میں آکر ابدی جنت کی نعمتوں اور نوازشات الہیہ سے بہرہ ور ہوجائیں ، اس نصیحت و خیر خواہی میں مسلم و غیر مسلم سب ہی شامل تھے ، غزوہُ حنین اسلامی تاریخ کا ایک عظیم غزوہ تھا جس میں اہل اسلام کا مقابلہ اہلِ کفر سے تھا ، اہلِ اسلام کا کافروں سے جنگ و قتال کرنا ملک و مال کے حصول کے لئے نہ تھا بلکہ درحقیقت کافروں کی بھلائی اور ان کی خیر خواہی کے لئے ہی یہ سارے غزوات اور جنگ و قتال کے واقعات پیش آئے ، اسلام میں جہاد یا قتال کا مفہوم کسی دنیاوی مفاد کی خاطر کسی کا کشت و خون بہانا ہرگز نہیں ، چناچہ نبی اکرم ﷺکے عہد زرین ہی نہیں بلکہ تاریخ اسلامی کے ہر دور میں جنگ و قتال اور غزوات و سرایا کی بنیادی وجہ روئے زمین پر  امن و شانتی قائم کرنا اور صلح و سلامتی قائم کرنا ، ظلم کی جگہ عدل و انصاف کی فضاء عام کرنا اور ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دلانا ، مظلوم کی داد رسی کرنا، اور ظالم کو ظلم سے روکنا رہا نیز بندوں کو دنیا میں بندوں کی غلامی سے نکال کر ان کے اصل اور ایک مالک و خالق وحدہ لا شریک لہ سے جوڑنا اصل وجہ رہی ہے ۔

            گذشتہ قسطوں کی طرح  اس قسط میں بھی ہم نبی اکرم ﷺکی رحمتِ عامہ کے بعض مظاہر ذکر کر رہے ہیں :

            غزوہُ حنین کا عظیم معرکہ ماہ شوال سنہ ۸ ہجری میں پیش آیا ، حنین ایک وادی کا نام ہے مکہ مکرمہ سے تین منزل کے فاصلہ پر یہ واقع ہے ، اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ جب نبی اکرم ﷺمکہ مکرمہ کی فتح سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف کے بعض سرکردہ لوگوں نے اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف اعلان جنگ کا طبل بجا دیا ، غرور و گھمنڈ سے سرشار یہ کفار ایسے مست ہوئے کہ نہ صرف یہ کہ انھوں نے مردوں کو جنگ پر جمع کیا بلکہ اپنے مال و اسباب حتی کہ گھر کی خواتین اور بچوں تک کو میدان جنگ میں لا اتارا ، ادھر نبی اکرم ﷺکو ان کے ناپاک ارادہ اور اعلان جنگ کی اطلاع ملی تو آپ ﷺنے اپنے ساتھ مدینہ سے آئے ہوئے صحابہ اور مکہ کی بڑی تعداد کے ساتھ ان کے مقابلہ کا ارادہ فرمایا ، مختصر یہ کہ یہ عظیم جنگ بڑے زور و شور سے ہوئی ، مسلمانوں کو ابتداءاً نقصان ہوا مگر پھر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی ، اس جنگ کے دوران کفار کا یک شخص شیبہ بن طلحہ حجبی تھا ، اس کا ناپاک ارادہ یہ تھا کہ کسی طرح نبی اکرم ﷺپر حملہ کر کے ان کو اغواء کر لے جائے ، نبی اکرم صﷺ اس کے اس ناپاک ارادہ کو بھانپ گئے مگر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے قاتل یا  اغواء کار کو تہہ تیغ نہ فرماکر اس کو اپنے پاس بلایا اور نہ صرف بلایا بلکہ اس کے لئے دعا فرمائی ، دعائے نبوی کے قبول ہونے میں دیر کہاں ؟ فوراً ہی اس کافر نے کلمہ پڑھا اور اسلام کے شیریں سایہ میں داخل ہوکر صحابیت کے شرف سے فیضیاب ہو گیا ، رضی اللہ عنہ۔

 اس واقعہ کو صاحب واقعہ کی زبانی سنئے :

شیبہ بن عثمانtفرماتے ہیں کہ حنین کی جنگ کی جنگ کے موقع پر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺتنہا رہ گئے ہیں ، تو مجھے اپنے باپ اور چچا کی موت یاد آگئی جن کو علی و حمزہ (رضی اللہ عنہما ) نے قتل کیا تھا ، میں نے یہ طے کیا کہ آج اچھا موقع ہے میں محمد (ﷺ) کے داہنی جانب سے آکر ان پر حملہ کروں ، مگر میں نے دیکھا کہ ان کے داہنی سمت عباس بن عبدالمطلب سفید زرہ میں ملبوس کھڑے ہیں ، میں نے سوچا یہ تو محمد ﷺکے چچا ہیں ہرگز بھتیجے پر حملہ ہونے نہیں دیں گے ، پھر میں نے کوشش کی کہ محمد صﷺکے پیچھے سے جاکر حملہ کروں ، چنانچہ بس اتنا رہ گیا تھا کہ میں تلوار اٹھا کر ان کا کام تمام کردوں مگر میں نے دیکھا کہ ایک آگ کا شعلہ میرے اور محمد (ﷺ)کے درمیان حائل ہوگیا ، اس شعلہ کی ایک چمک بجلی کی طرح تھی ، مجھے لگا کہ یہ شعلہ مجھے جلا کر خاک کر دے گا ، میں نے جلدی سے اپنے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے ، اور یکدم پیچھے ہٹا ، اتنے میں رسول اللہ ﷺنے مجھے دیکھا تو مجھے مخاطب کرتے ہوئے آوازدی : اے شیب ! اے شیب ! میرے قریب آجاوُ ، پھر فرمایا : اے اللہ ! اس سے شیطانی ارادہ کو ختم فرمادے ، پھر آپ ﷺنے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر رکھا ، یہاں تک کہ میرے اندر کا شیطان جاتا رہا ، میں نے نظر اٹھا کر نبی اکرم ﷺکی طرف دیکھا تو مجھے لگا کہ آپ ﷺکی ذات عالی میرے نزدیک میری آنکھ کان سے بھی زیادہ عزیز ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے شیب ! کافروں سے لڑو ۔

 

*[1]دوسرا واقعہ یہودِ مدینہ کا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مع بعض اپنے اصحاب کے جن میں حضرت ابوبکر و عمر و علی رضی اللہ عنہم بھی تھے یہود کے معروف قبیلہ بنو نضیر کے یہاں تشریف لے گئے ، معاملہ دو لوگوں کی دیت کا تھا جن کو عمرو بن امیہ یہودی نے قتل کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ کو حل فرمانے کے لئے بنو نضیر پہونچے ، اور ان سے گفتگو فرمائی ، بنو نضیر نے ظاہری طور پر یقین دلایا ، اور کہا کہ ہم اس سلسلہ میں پورا تعاون کریں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتظار میں ایک دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے ، ادھر یہودیوں نے چپکے سے آپس میں مشورہ کیا ، اور طے کیا اچھا موقع ہے ہم میں سے کوئی شخص اوپر جاکر ایک بھاری پتھر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) پر گرادے تاکہ یہ موقع پر ہی (معاذاللہ) ہلاک ہوجائیں اور ہم ان سے چھٹکارا پالیں ، چنانچہ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عمرو بن جحاش بن کعب یہودی تیا ر ہوا ، اور وہ اوپر پہنچ گیا تاکہ اوپر سے پتھر گرا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کردے ، ادھر بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع مل گئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً ہی دیوار کے نیچے سے اٹھ گئے اور مدینہ منورہ کے لئے واپس ہوئے ، یہاں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قتل کا پلان بنانے والے افراد سے اور نہ اس کو عملی جامہ پہنانے والے عمرو بن جحاش سے کسی قسم کا انتقام نہیں لیا ، تاہم اس واقعہ نے بنو نظیر کی عہد شکنی اور ان کی غداری کو واضح کردیا ، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ فرمایا ، اور بالآخر پھر ان دشمنانِ اسلام کا محاصرہ فرمایا تاکہ بار  بار ان کی غداریوں سے ایک دفعہ نمٹ ہی لیا جائے ، چنانچہ اولاً تو یہود اپنے قلعوں میں محصور ہوگئے ، ان کو یہ امید تھی کہ مدینہ کے منافقین جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے ان کی مدد کریں گے ، جیسا کہ مشہور منافق بلکہ منافقین کا سردار عبداللہ بن اْبی بن سلول نے بھی نبونضیر کو یہ پیام بھیج دیا تھا کہ پیچھے نہ ہٹنا جمے رہنا ہم تمہارا پورا ساتھ دیں گے مگر یہ منافقین یہود کا ساتھ نہ دے سکے ، اور بنو نضیر کے حوصلے پست ہوگئے جس کے بعد انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پیش کش کی کہ ہمیں ہماری غداریوں کی سزا نہ دی جائے بلکہ ہمیں یہاں سے جِلا وطن کر دیا جائے اور ہمیں اس کی اجازت دی جائے کہ ہم جتنا مال و متاع اپنے اونٹوں وغیرہ سواریوں پر لے جا سکیں لے جائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیش کش کو قبول فرماتے ہوئے ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ فرمادیا ، جس کے نتیجہ میں بنو نضیر اپنے مال و متاع کے ساتھ مدینہ سے جِلا وطن ہوئے ۔

قربان جایئے نبی اکرم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ کیسے شفیق و مہربان تھے اپنوں کے ساتھ ہی نہیں دشمنوں کے ساتھ بھی ۔ صلوات ربی وسلامہ علیہ

واضح  رہے کہ مدینہ منورہ یہود کا اصل وطن نہ تھا ، بلکہ یہ قوم ملک شام سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوگئی تھی ، بعض روایات کے مطابق یہاں آنے کی وجہ یہ تھی کہ تورات کے مطابق آخری نبی کا قیام یہیں ہوگا ، اس آخری نبی کے انتظار میں ہی یہ قوم یہاں آکر آباد ہوگئی ، مگر یہ بد قسمتی کہیئے کہ جب یہ آخری نبی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تشریف لائے تو اسی قوم نے ان کی زبردست مخالفت کی ، اور مخالفت ہی نہیں بلکہ آخری نبی ﷺکو قتل کرنے کے در پے تک ہو گئے ۔

 مذکورہ دونوں واقعات میں عبرت ہے کہ اہل اسلام کو نہایت تحمل و صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو نہایت نصح و خیر خواہی کے ساتھ دنیائے انسانیت کے سامنے پیش کیا جائے ۔ اللہ تعالی ہمیں دعوتِ اسلام کے لئے قبول فرمائیں ۔ آمین[2]-